عشقِ نَبّیﷺ

عشقِ نَبّیﷺ

کہاں سے لاؤں وہ آنکھ یا رَّب کہ عِشق کے رَنگ و نِصاب دیکھوں
چہرہِ مُحَّمَدﷺ دیکھوں، یا موسی کا تاب دیکھوں

وہ دیکھوں طوْر کا اِک جھَلک سے ہی جل جانا
یا رُوبرو اَحَمَّدﷺ کے اُسے سرِ عرش بے حجاب دیکھوں

وہ دیکھوں زُلیخا خریدار بازارِ عِشق میں
اِدھر سوداِ یوسف دیکھوں حسنِ لاجواب دیکھوں

اللّٰه بھی شیدائی ہے تری شانِ نرالا کا
وَرَفعْانَ لَکَذِکْرَک پڑھوں یا وجودالکِتاب دیکھوں

تیرے پسینے کی خوشبو سے مُعتر ہے سارا عالم
مشکِ عنّبر لاؤں یا نکہتِ گُلاب دیکھوں

ہوئی جس کے رنگ پہ سیاہ رات فدا
وَلمُزَمِل کہلایے جو وہ انتخاب دیکھوں

قسم کھایے خُدا بھی جس کی زُلفوں کا
یٰس کہوں اسے یا طحٰی الخِطاب دیکھوں

ہٹ گئی جس سے شِرک و کُفر کی تاریکیاں جہاں میں
عرب سے بلند ہوا وہ طلوعِ آفتاب دیکھوں

وہ جس کے فیض سے صَحَابَہ کو مقام ملا
مری قسمت میں بھی ہو اُسے جلوہِ بےنقاب دیکھوں

اُنکے تَبّسم سے غَمزدوں کے دل کھِل اٹھے
جیسے نور کے دریا میں سیلاب دیکھوں

وہ جو دُشمن ہیں اُنکے اور گُستاخ ہوئے
کاش اپنی آنکھوں سے اُن پر عزاب دیکھوں

میری اتنی سی طلب ہے دوجہاں میں الہٰی
اُنکے چہرے کو دیکھوں اور بےحساب دیکھوں

اُنکے نام سے ہی دل میں آجاتا ہے سِکوں
ورنہ غمِ فُرقت میں خانۂِ خراب دیکھوں

مجھے تو ستاتی ہے اُمت کی حالتِ خَستگی
ہمیشہ دل میں اپنے میں یہی اِظراب دیکھوں

دہر میں عشق و معرفت کو جو اُمت میں سرشار کرے
جوانِ ملت اِسلامیہ میں ایسا اِنقلاب دیکھوں

کسے کہوں شوکؔت میں اپنی چاہ کا عالم
دیدِ نَبّیﷺ مل جایے جس میں وہ خواب دیکھوں