علامہ اقبالؒ کے نام خراجِ تحسین

علامہ اقبالؒ کے نام خراجِ تحسین

اقبال تمہیں کن لفظوں میں کروں میں بیاں
سراپا ترے کردار میں گُن ہی گُن عیاں

سرشار ملت آج بھی ہے ترے افکار سے
زندگی کے وہ رمز سارے تجھ میں تھے نہاں

ہے کونسا گوشہ حیات تری فکر سے پرے
ہر موڑ پہ تونے بخش دی حکمتِ جاوداں

غافل تغافل میں ڈوبے تھے ہر
سوں اندھیروں میں
سمجھایا انہیں تمہیں نے پھر رازِ سود و زیاں

خودی کا روح پھونک کر جواں کئے بیدار
اور غیرت کے مل گئے انہیں جوہرِ فشاں

پیغام عشقِ نبی کا تری فکر کا اول باب
جس پر نچھاور آج بھی امت کا ہر انساں

کشمیر سے تری محبت کو کرے کون فراموش
لولاب میں اب بھی تری یادوں کا سیماب ہے رواں

ایرانِ صغیر جسے کہےتھے یا محکوم و مجبور
افسوس جنت کا ٹکڑا سُنائے اب تک وہی فغاں

لیکن ترےجوشِ جنوں سے ہم جدا بھی نہ ہوئے
ہیں اب بھی ڈھڑکتے سینوں میں چناری آتش فشاہ

شاعر کہوں حکیم کہوں یا درویشِ خدا
بخشی تھی ازل نے آپ کو کیا کیا خوبیاں

ہے آج یوم اقبال کروں انہیں خراج پیش
ورنہ مجھ میں شؔوکت وہ جدت شعر کہاں

( ~ شوکت بڈھ نمبل کشمیری )