ریاضی اور وقت

ریاضی اور وقت

یہ ریاضی بھی وقت میں کیا گل کھلائے ہیں
تاریخوں کے ترتیب میں عجب کھیل دکھائے ہیں

جب مل جائے نصیب میں کسی کو غم ہجر کی راتیں
محبت کے افسانوں میں چھیڑیں  اِن ہی  کی باتیں

یہ وقت اور حساب ہے دشمن ہمارا
چھینا مرے  محبوب مجھ سے چلمن تمہارا

ولیکن کسی کے وصل کا انتخاب ہے یہ
کیا خوب وقت ہے کیا خوب حساب ہے یہ

اے ریاضی ترا وقت سے کیا خوب ناتا ہے
دن رات کے تسلسل کا نظام سکھاتا ہے

اس وقت اور حساب سے عاجز ہے سبھی
موت و حیات کے فیصلے اس میں نہاں ہے

یہ وقت اور ریاضی استاد ہے شؔوکت
سکھاتے ہم کو  زنگی کا سود و زیاں ہے

    ( ~ شوکت بڈھ نمبل کشمیری )