شانِ نَبّیﷺ

شانِ نَبّیﷺ

کیا تخلیق ہم کو انسانوں میں اور پھر مُسلماں
یہ ہم پہ کرم ہے مالک کا یہ اُن کی رفاقت ہے


ہے اللّٰه کو مقصود آدم سے وہ جزبہٗ ایثار
عطا فرشتوں کو ورنہ کیا طرزِ عبادت ہے


اُٹھائے خود مشکلیں اوروں کی فلاہ کیلئے
عطا مومن کو وہ جوہرِ سخاوت ہے


سکھائے کس نے آدمی کو آدمیت کے رموز
وہ دیکھو دینِ مُحَمَّدﷺ کی عطاعت ہے


کیا جس نے بندوں کو خدا سے محرم
مبارک شہِ دینﷺ کی رَسالت ہے


نہ ہو جس میں شعارِ صاحبِ یَثربﷺ کا پاس
وہ زندگی بندگی نہیں سراسر بغاوت ہے


مٹادئے شِرک و بِدت کی سب بنیادیں
مرحبا کیا خوب شہِ عرب و عجم ﷺ کی شُجاعت ہے
کئے جس کے کلام نے پتھر دل بھی موم
کیا اعلیٰ شہِ لولاکﷺ کی فصاحت ہے بلاغت ہے


اَجی یہ جو پھولوں میں مہک اور مسکان بھرے نظارے ہیں
دلکش میرے مسطفٰےﷺ کی سادگی ہے نزاکت ہے


یہ مہر و ماہ وہ حور و قصور رشک میں ہے اُس کے
فروزاں جس کے دل میں آقاﷺ کی چاہت ہے


یہ ناتے رشتے یہ سفارشیں یہی رہیں گی
دلائے گی جو ہمیں بخشش نَبّیﷺ کی وکالت ہے


انہیں کیا غم ہے شوکت جو ہوں مُحَمَّدﷺ کے غُلام
حشر میں ان کو حاصل نَبّیﷺ کی شفاعت ہے


( ~ شؔوکت بڈھ نمبل کشمیری )