ہنسی

ہنسی

ہنسی وہ شے نہیں جو حاصل ہو امیروں کے محل خانوں سے
ہم نے دیکھے ہیں کلھِتے گلاب جھونپڑوں کے روشن دانوں سے

دل کے موتیوں کو نہ پرکھ چہرہِ نمایش سے
ملتے گوہرِ نایاب ہیں سمندر کے تہ خانوں سے

ہے عطا آدم کو وہ نطق و فہم و دانش
کیا تخلیق ہے بہتر اِسے حیوانوں سے

ہے فرشتے ہی کافی ورنہ عبادت کیلئے
جزبہٓ ایثار ہے مقصود انسانوں سے

خود جو سہ لہتے غم اوروں کی مسرت کیلئے
رشک کرتے ہیں فرشتے بھی ایسے انسانوں سے

دینِ مُحَمَّدﷺ سے ہو ہمارا ایسا ناتا
جیسے شمع کو حاصل ہے پروانوں سے

اپنے دلوں میں محبت کو ہم سرشار کریں
یہی خوائیش ہے شؔوکت کی نوجوانوں سے

( ~ شوکت بڈھ نمبل کشمیری )