ضربِ کلیم: عالم ہے غُلام اس کے جلال ازلی کا

ضربِ کلیم: عالم ہے غُلام اس کے جلال ازلی کا

عالم ہے غلام اس کے جلال ازلی کا
اک دل ہے کہ ہر لحظہ الجھتا ہے خرد سے

Alam Hai Ghulam Iss Ke Jalal-e-Azali Ka
Ek Dil Hai Ke Har Lehza Ulajhta Hai Khirad Se

Its lasting grandeur holds the world in perpetual chains that do not break:
The heart alone some courage shows and full of rage at wit can shake.

ایک دنیا عقل کی غلام ہے اور اسکے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کرتی ہے، لیکن اس کائنات میں صرف ایک چیز ایسی ہے جو ہر وقت اس فرماں روا (عقل) سے الھجتی رہتی ہے، اور اس کے کہنے کے خلاف کرتی رہتی ہے ، اور وہ چیز دل ہے،
مثلا عقل کہتی ہے کہ وقتی فائدے کے لیے حالات سے سمجھوتہ کر لیا جائے لیکن دل کہتا ہے چند روزہ زندگی کے لیے ضمیر فروشی کرنا یا وقتی فائدے کو اصل مقصود جان لینا مسلمان کا شیوہ نہیں ہے۔


(ترجمکار: پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

(علامہ اقبالؒ)