گنہگار میں ہوں خدایا

گنہگار میں ہوں خدایا

گنہگار میں ہوں خُدایا میرا عِشق گنہگار نہیں
میرا دل چاہتا ہے فقط تمہیں مرا نفس طلبگار نہیں

اُکسایا جاتا ہے الہٰی اِسے شیطان کی حربوں سے
ورنہ سراپا میرا وجود اس کا پیروکار نہیں

الہٰی بخش میری خطاؤں کو اور عطا کر قُرب اپنا
یہ پَل بھر کی فریبی خوشیاں مجھے اب درکار نہیں

الہٰی مری بساط نہیں کہ کروں گلہ شکوہ تری کریمی پہ
کہ میں وہ ظالم ہوں جو خود پہ خود وفادار نہیں

ولیکن میں پُر امید ہوں مالک تری ہی بےنیازی سے
عطا کر مجھکو بخشش کہ جس کا میں حقدار نہیں

جو تھے مقاصد مری تخلیق سے میرے خالق کو
ہو جاتے جس سے وہ حاصل میرا وہ کردار نہیں

گیرا ہوں ظلمتوں سے ہر سوں اور پریشان و مظطر ہوں
ہوں ناداں پھر بھی سمجھتا ہوں میں گرفتا نہیں

الہٰی حقیقت یہی ہے میں چھپاؤں بلا تجھ سے کیسے
کہ بندہٓ نادم ہوں مگر مجھ میں سلیقہٓ گفتار نہیں

نہ سُنا فیصلہ یا ربّ جزا کے مرے اعمال دیکھ کر
عطا کر فضل سے اپنے کہ مجھے خود پہ انحصار نہیں

میں جو ہوگیا ہوں آقا کی مبارک سُنتون سے دور
ہے یہی وجہ کہ میری زندگی میں اب بہار نہیں

جو چاہو حاصل ہو تمہیں دونوں عالم کی خوشیاں
کہوں پھر دین مُحَمَّد سے تمہیں کوئی انکار نہیں

ہے بس اک ہی چاہ دوجہاں میں الہٰی مجھے دیدی نَبّی کی
کہ جس کے خاطر شب روز دل و جاں میں قرار نہیں

چلائے جا شوکت خامہٓ دل کو ذکرِ احَمَّدﷺ میں
کہ جو نہ ہو اُن کے غُلام وہ محبوبِ پروردگار نہیں

( ~ شوکت بڈھ نمبل کشمیری )

گنہگار میں ہوں خدایا