مدحتِ اقبالؒ

مدحتِ اقبالؒ

قُربان جاؤں تیری شان پہ مشرق کے تاجدار
ذی ہجر تری یاد میں دل روتا ہے زار زار

خودی تری جنوں تھا،اے حق کے علمبردار
سرشار ملت آج بھی ہے ،باعث ترے افکار

مجھ سے تری رازِ ہستی کیسے ہو آشکار
لاؤں کہاں سے وہ آنکھ اور سلیقہٓ گفتار

نا محرم تھا آج تک تیرے بھیدوں سے خاکسار
پڑھ کر ترا کلام جیسے پایا ہوں سمسار

محبتِ کشمیر ہو یا تری یادوں کا اخبار
اب بھی بیاں کرتی ہے سرخیِ آتش چنار

محکوم ہے مجبور ہے کرتے ہیں آہ و پکار
منصفو خدارا مت بنوں ہم پہ ستمگار

اقبالؔ کے شاہیں ہیں ہم اور امن کے سالار
اور شوق پرواز و ھریت ہمیں تڑپاتا باربار

عشقِ رسول سے لبریز اے اُمت کے وفادار
ہیں ڈھڑکتے دل ہمارے تجھ میں ہی گرفتار

شؔوکت کے دل میں بس یہی آرزو ہے بے قرار
اقبالؔ کی اسے دید ملے اور نَبّی کا دیدار

( ~ شوکت بڈھ نمبل کشمیری )