یادِ طفلی

یادِ طفلی


کہاں گئی وہ باغِ بہشت کی نہریں جہاں
کھلاکے ماں کی گودی میں مجھے پالا گیا

بہلاوں مت مجھے وقت کے وفادارو
کہ دے کے خواب جادہ  کا مجھے ٹالا گیا

کہاں سے لاؤگے تم  وہ خیاباں
جہاں  پہ لوریاں  دے کے مجھے سنبھالا گیا

وہ بوسہ ماں کا اے خامہٓ دل کیسے لکھوں
جیسے جلتے عارض پہ پانی ڈالا گیا

یادِ طفلی نا چھیڑ مجھ سے اے شؔوکت
کہ یہی  وہ جنت تھی جس سے میں نکالا گیا

( ~ شوکت بڈھ نمبل کشمیری )