لفظ انبار

لفظ انبار

میرا ارماں تھا کہ میں بھی شاعر بنوں
ولیکن میرے اشعار لفظوں کے انبار ٹھہرے

کہی برس ہویے مجھے بھی زیست میں
مجھکو سکھانے میں سبھی انکار ٹھہرے

ہم جو شکوہ کیے کبھی ان کی بے توجہی کا
بے وجہ پھر وہ ہم سے بیزار ٹھہرے

مجھکو ڈر ہے کہ مرجاؤں یہی چاہ لئے
حشر میں بھی میرا یہ اظہار ٹھہرے

ابھی وقت ہے مجھے کوئی اصلاح ملے
ورنہ دل کی یہ خواہش بےکار ٹھہرے

کون یہاں اب سمجھاتا ہے سود و زیاں کے راز
دوسروں کی کامیابی اب ناگوار ٹھہرے

اب تو کہیں ڈھونڑنے سے بھی ناصح نہیں ملتے
اب یہاں کون کس کا غمخار ٹھہرے

خود جو کرے ظُلم و سِتم بھی منصف کہلائے
ہم جو کبھی آہ برے تو گناہ گار ٹھہرے

مَسل کر دوسروں کے جزبات اور اپنا پُختانا
اب تو یہاں ہر کسی کا کاروبار ٹھہرے

کوئی جو اپنے حق کیلئے آواز اٹھائے تو
اس انجمن میں پھر وہی سزاوار ٹھہرے

مجھے تو کوستی ہے انسانیت انسانوں کے حال پہ
اسی غم میں دل مرا بےقرار ٹھہرے

کس سے شکایت کریں کس سے توقع شؔوکت
اب تو یہاں سبھی نام کے ہی علمبردار ٹھہرے

(~ شوکت بڈھ نمبل کشمیری )