ضربِ کلیم:مومن کی یہ پہچان کہ

<br>ضربِ کلیم:مومن کی یہ پہچان کہ

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق!

Kafir Ki Ye Pehchan Ke Afaq Mein Gum Hai
Momin Ki Ye Pehchan Ke Gum Iss Mein Hain Afaaq!

Non-believer is the one lost in the universe
Believer has the universe lost in him.

کافر اور مومن میں فرق یہ ہے کہ کافر آفاق میں گم ہو جاتاہے اور مومن آفاق کو خود اپنے اندر گم کر دیتاہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ کافر چونکہ توحید الہی سے بیگانہ ہوتاہے اس لیے کائنات کی ہر چیز کو اپنا معبود اور مسجود بنا سکتاہے بلکہ فی الحقیقت بنا لیتاہے، اس لیے اسکی خودی مردہ ہوجاتی ہے اور وہ کائنات کا غلام ہوجاتاہے، آفتاب، ماہتاب، دریا ، پہاڑاور حیوانات کو اپنا معبود بنا لیتاہے،الغرض آفاق میں اسکی نہ کو‏ئی حیثیت باقی رہتی ہے، نہ وہ آفاق پر حکمرانی کر سکتاہے، حالانکہ خودی اس وقت اپنے مرتبہ کمال کو پہنچ سکتی ہے جب انسان یہ یقین کرے کہ اس کائنات میں کوئی شے نہ مجھ پر حاکم ہوسکتی ہے نہ میں کسی کا غلام ہوسکتاہوں، حتی کہ کوئی انسان بھی مجھ پر حکومت نہیں کرسکتا، صرف اللہ مجھ پر حکمران ہے اور یہ کائنات میری غلام ہے۔ لیکن اگر انسان خود عناصر کائنات کو اپنا معبود بنائے تو اسکی خودی مردہ ہوجا‏ئیگی اور یہ مطلب ہے آفاق میں گم ہوجانے کا۔
دوسری طرف مومن یہ یقین رکھتاہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہے، وہ میری خدمت کے لیے ہے، کیونکہ توحید کا مفہوم یہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی طاقت مجھ پر حکومت نہیں کرسکتی، وہ اطاعت الہی کی بدولت اپنی خودی کی مخفی طاقتوں کو مرتبہ کمال تک پہنچا سکتاہے، اور جب خودی اپنے اصلی مقام خلافت الہیہ پر فائز ہوجاتی ہے تو یہ ساری کائنات مومن کی مطیع ہوجاتی ہے، اور وہ زمان و مکان پر حکمران ہوجاتاہے، اسی حقیقت کو علامہ نے یوں بیان کیاہے کہ آفاق مومن کے اندر گم ہوجاتے ہیں۔

ترجمکار؛ پروفیسر یوسف سلیم چشتی