تیری کریمی کے آسرے پر

تیری کریمی کے آسرے پر

تیری کریمی کے آسرے پر ہم فقیروں کی زندگی ہے
جسے تو عروج بخشے، اسے خوفِ زوال کیسا

At the bounty of yours, the poor man’s life is fine
Whom you grant the Ascent, why will fear of decline.

تو غنی ہے سو خزانوں سے عطا کر مالک
مجھ سے در در کا تماشا نہیں دیکھا جاتا

You the rich ,O God ,from the treasures, bless me
Door to door spectacle , for the alms, I can’t see..

( ~ شوکت بڈھ نمبل کشمیری )