کلیاتِ اقبال: اگر مقصودِ کُل ميں ہوں

کلیاتِ اقبال: اگر مقصودِ کُل ميں ہوں

اگر مقصودِ کُل ميں ہوں تو مجھ سے ماورا کيا ہے
مرے ہنگامہ ہائے نو بہ نو کی انتہا کيا ہے؟

Agar Maqsood-E-Kul Main Hun To Mujh Se Mawara Kya Hai
Mere Hungama Ha’ay Nau Ba Nau Ki Intiha Kya Hai?

اس شعر میں اقبال فرماتے ہیں کہ اگر انسان ہی کائنات کی وجہ تخلیق، مرکزی کردار اور اللہ تعالی١ کا نائب و خلیفہ ہے تو پھرانسان سے کوئی بھی چیز اس کائنات میں پوشیدہ نہیں ہے۔
بحیثیت انسان جسے اللہ تعالی١ نے اشرف المخلوقات کے مقام پر فائز کیا ہے اور جو اللہ تعالی١کا خلیفہ اور نائب ہے تو پھر کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جہاں تک انسان کی رسائی ممکن نہ ہو مطلب یہ کہ یہ ساری کائنات انسان کے لیے بنائی گئی ہے تو پھر انسان کی ترقی کی انتہا کیا ہوگی
اور اس کے سوچ و فکر ، مادی و روحانی ترقی اورعروج کی تو پھر کوئی انتہا نہیں.
انسان کو کائنات میں تسخیر کرنے، اپنے کھوئے ہوئے مقام کو پہچاننے اور پانے ، ترقی اور جستجو کی نئی راہیں ڈھونڈنے اور زندگی میں ایک مثبت اورنیا سوچ و فکر اور رنگ پیدا کرنے کی دعوت دی گئی ہے

If I am the end of all, then what lies beyond?
Where lies the limit of my unending adventures?