ضربِ کلیم: فطرت کے تقاضوں پہ نہ کر راہ عمل بند

ضربِ کلیم: فطرت کے تقاضوں پہ نہ کر راہ عمل بند

فطرت کے تقاضوں پہ نہ کر راہ عمل بند
مقصود ہے کچھ اور ہی تسلیم و رضا کا

Fitrat Ke Taqazon Pe Na Kar Rah-e-Amal Band
Maqsood Hai Kuch Aur Hi Tasleem-o-Raza Ka

Donʹt bar the path to deeds for Natureʹs demands,
Submission to Will of God has different purpose.

اے انسان ! تیری فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ تو سرگرم عمل رہے، اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے کوشش کرتارہے، تسلیم و رضا کا مقصود یہ نہیں کہ تو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے، بلکہ اس بلند روحانی اصول کا فلسفہ یہ ہے کہ تو ہر معاملہ میں پہلے اپنی سی کوشش کر، پھر نتیجہ خدا پر جھوڑ دے یعنی سر تسلیم خم کر مگر عمل کرنے کے بعد۔


ترجمکار: پروفیسر یوسف سلیم چشتی