ضربِ کلیم: دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی

ضربِ کلیم: دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی

دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی
دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا

Dil Torh Gyi In Ka Do Sadiyon Ki Ghulami
Daru Koi Soch In Ki Preshan Nazari Ka

Slavery of two centuries, has drained the blood of heart, so strong;
Think of some cure, to bring to end their sight distraught.

اس نظم کا مخاطب علما اور صوفیا ہیں ان کو مخاطب کرتے ہوئے علامہ کہتے ہیں چونکہ مسلمان دو سو سال سے انگریزوں کی غلامی میں مبتلا ہیں ، اس لیے وہ آزردہ اور دل شکستہ ہوچکے ہیں، آپ حضرات قران اور حدیث سے ان کے مرض کا مداوا کریں، انھیں اللہ اور اسکے رسول کا پیغام سنائیں ۔


ترجمکار: پروفیسر یوسف سلیم چشتی