لوح بھی تو ، قلم بھی تو ، تيرا وجود الکتاب

لوح بھی تو ، قلم بھی تو ، تيرا وجود الکتاب

علامہ کی بیاض سے ان کی مشہور نعت کا عکس

لوح بھی تو ، قلم بھی تو ، تيرا وجود الکتاب
گنبد آبگينہ رنگ تيرے محيط ميں حباب

تشریح:
اے میرے محبوب ﷺ آپ سب کچھ ہیں۔ یعنی سب کچھ آپ ہی کے وجود مسعود کی بدولت عالم وجود میں آیا۔ اگر آپ نہ ہوتے تو نہ لوح ہوتی نہ قلم ہوتا، اور نہ کتاب ہوتی۔ اور آپ ﷺ کی شان کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ یہ آسمان جس کے طول و عرض کا کچھ پتہ نہیں ہے، آپ ﷺ کے محیطِ وجود کے سامنے اس کی حقیقت ایسی ہے جیسے سمندر کے مقابلہ میں ایک بلبلا!

عالم آب و خاک ميں تيرے ظہور سے فروغ
ذرہ ريگ کو ديا تو نے طلوع آفتاب

تشریح:
اس کائنات کو آپ ﷺ ہی کے ظہور سے فروغ حاصل ہوا ہے۔ آپ ﷺ ہی کے قدموں کی برکت سے ذرہ ریگ (بلال حبشی) دنیا میں آفتاب (سیدنا بلال) بن کر چمکا۔ آپ ﷺ ہی کی کفش برداری کا یہ نتیجہ تھا کہ امیرالمومنین فاروقِ اعظم حضرت بلال کو “سیدنا بلال” کہتے تھے۔ آپ ﷺ ہی کی نگاہ کیمیا اثر کا فیض تھا کہ حضرت اسامہ ابن زید اسلامی فوج کے سپہ سالار مقرر ہوئے جو ایک غلام کے بیٹے تھے۔

شوکت سنجر و سليم تيرے جلال کی نمود
فقر جنيد و بايزيد تيرا جمال بے نقاب

تشریح:
سلطان سنجر اور سلطان سلیم آپ ﷺ کی شان جلال، اور حضرت جنید اور حضرت با یزید آپ ﷺ کی شان جمال کے مظہر ہیں۔ جن کا حال درج کرتاہوں:-
سلطان سنجر سے زیادہ شان و شوکت والا بادشاہ شاید ہی مشرق کوئی اور گزرا ہو۔ چنانچہ اس کی عظمت و سطوت کا کچھ اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ جب حضرت امام غزالی اس کے دربار میں تشریف لائے تو اس کی شان و شوکت دیکھ کر اُن کے بدن میں رعشہ طاری ہو گیا۔ اگرچہ سلطان نے ان کی انتہائی تعظیم و تکریم کی۔ تخت شاہی سے اتر کر استقبال کیا۔ اور اپنے برابر مسند پر جگہ دی۔ لیکن اس کے باوجود ہیبت کا اثر دور نہ ہوا، تو امام صاحب نے اس قاری سے جو ان کے ہمراہ تھا، درخواست کی کہ مجھے کوئی آیت سناؤ۔ قاری چونکہ موقع شناش تھا اس لیے اس نے یہ آیت پڑھی مَا لَیࣿسَ اللّٰہُ بکافٍ عَبࣿدَہٗ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے۔ تب جا کر ان کا دل قابو میں آیا۔ اور حواس بجا ہوئے۔ اس کے بعد پھر امام صاحب نے سلطان کی فرمایش پر ایک عالمانہ تقریر ارشاد فرمائی۔
سلطان سلیم اول سلطنت عثمانیہ کے نامور ترین سلاطین میں سے گذراہے۔ ۱۵۱۲ء میں تخت نشین ہوا، اور ۱۵۲۰ء میں صرف آٹھ سال حکومت کرنے کے بعد وفات پائی۔ لیکن اس قلیل مدت میں اس نے سلطنت کی واعت کو دو چند کر دیا۔ یعنی دیار بکر، آرمینیہ، کردستان، شام، مصر، اور حجاز کو سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا۔ حجاز کی فتح کے بعد اُس کو “خادم الحرمین الشریفین” کا لقب حاصل ہو گیا۔ اور آخری عباسی خلیفتہ المتوکل علی اللّٰہ نے جو قاہرہ میں مملوک سلاطین کے زیرِ سایہ اپنی زندگی گذارر رہا تھا، خلافت کے تمام حقوق اسے تفویض کر دیئے۔ چنانچہ سلطان سلیم پہلا عثمانی سلطان ہے، جو خلیفتہ المسلمین اور خادم حرمین شریفین کے لقب سے ملقب ہوا۔
حضرت جنید بغدادی جو صوفیا کے طبقہ ثانیہ سے تعلق رکھتے ہیں اور سید الطائفہ کے لقب سے مشہور ہیں، بلاشبہ اولیائے کبار میں سے ہیں اور ان کا نام غائیتِ شہرت کی وجہ سے محتاج تعارف نہیں ہے۔ تیسری صدی کے شروع میں بغداد میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والدین نے جو ایران النسل تھے مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔ جونی میں حضرت سری سقطی کے ہاتھ پر بیعت کی، اور زہد و تقویٰ کی بدولت طبقۂ صوفیا میں بہت بلند مرتبہ حاصل کیا۔ چنانچہ حضرت شبلی کا قول ہے کہ اصامنا فی ھٰذا العلم و مرجعنا المقتدیٰ بہ جنیدُ۔ ایک دن خلیفہ بغداد نے اپنے کسی مصاحب کو بے ادب، کہہ کر پکارا، تو اس نے کہا اب مجھ سے بے ادبی کا صدور نہیں ہو سکتا، کیونکہ میں نصف روز تک حضرت جنید کی خدمت میں رہ چکا ہوں۔ ۲۳۱ھ میں وفات پائی۔
حضرت بایزید بسطامی، طبقہ اولیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری صدی کے آخر میں پیدا ہوئے تھے۔ اور ۲۳۱ھ میں وفات پائی۔ طبقہ صوفیاء میں اتباع شریعت کے لیے ان کا نام ضرب المثل ہو گیا ہے۔ ان کا یہ مقولہ بہت مشہور ہے، جس میں خود ان کی شخصیت منعکس ہے۔ الاستقامتہ فوق الکرامتہ یعنی شریعت اسلامیہ پر استقامت دکھانا، کرامت دکھانے سے بڑھ کر ہے۔ یا یوں سمجھو کہ سب سے بڑی کرامت جو ایک مسلمان سے ظاہر ہو سکتی ہے یہ ہے کہ وہ اتباع شریعت میں کامل ہو۔

شوق ترا اگر نہ ہو ميری نماز کا امام
ميرا قيام بھی حجاب ، ميرا سجود بھی حجاب

تشریح:
اگر آپ ﷺ کی محبت، یعنی آپ ﷺ کی اتباع کا جذبہ ارکانِ شریعت کی بجا آوری کا محرک نہ ہو، تو کوئی عبادت اللّٰہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہو سکتی۔

تيری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غياب و جستجو ، عشق حضور و اضطراب

تشریح:
یہ آپ ﷺ ہی کا تو فیض ہے کہ عقل اور عشق دونوں اپنی اپنی مراد پا گئے۔ عقل، غیاب و جستجو کی طالب تھی، یہ دولت اُسے مل گئی۔ اور عشق حضور و اضطراب کا آرزو مند تھا، یہ نعمت اُسے عطا ہو گئی۔
واضح ہو کہ ذات عقل کا یہ تقاضہ ہے کہ اس میں غیاب اور جستجو (مقصد سے دور رہنا اور تلاش کرنا) کا رنگ پایا جائے۔ اور ذات عشق اس کی مقتضی ہے کہ اس میں حضور اور اضطراب کی کیفیت پائی جائے۔ یعنی آپ ہی کی بدولت ہر شئے کو اس کی صورتِ نوعیہ نصیب ہوئی۔
حضور و اضطراب، غیاب و جستجو کی ضد ہے۔ اسی لیے عقل عشق کی ضد ہے اور اسی لیے دونوں کی تقدیر جُداگانہ ہے۔ چنانچہ اقبال خود کہتے ہیں؎
عقل، گویا آستاں سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں
عقل، غیاب یعنی دور رہنے کی حالت سے مطمئن ہو سکتی ہے لیکن عشق مطمئن نہیں ہو سکتا، وہ حضور کا طالب ہے، وہ تو محبوب کو بے پردہ آمنے سامنے دیکھنا چاہتا ہے۔

تيرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے
طبع زمانہ تازہ کر جلوئہ بے حجاب سے

تشریح:
اے میرے آقا! جلوۂ آفتاب سے مادی اشیاء منور ہو سکتی ہیں لیکن انسانی قلوب منور نہیں ہو سکتے۔ بالفاظ دگر مادہ پرستی کی وجہ سے یہ دنیا روحانیت سے محروم ہو گئی ہے۔ اس لیے میں آپ ﷺ سے التجا کرتا ہوں کہ آپ ﷺ اپنے روحانی فیض سے اس دور میں بھی دنیا کو منور کر دیجئے۔
(شرح یوسف سلیم چشتی)

Reference: http://www.iqbal.com.pk/poetical-works/kuliyat-e-iqbal-urdu/baal-e-jibreel/baal-e-jibreel-manzumaat/906-poetical-works/kuliyat-e-iqbal-urdu/bal-e-jibril/bal-e-jibril-manzomaat/654-zauq-o-shauq-ecstasy