کبھی اے حقيقتِ منتظر نظر آ لِباس ِمجاز ميں

کبھی اے حقيقتِ منتظر نظر آ لِباس ِمجاز ميں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہيں مری جبينِ نياز ميں

طَرَب آشنائے خروش ہو، تو نوا ہے محرم گوش ہو
وہ سُرُود کيا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردۂ ساز ميں

تو بچابچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شِکَسْتَہ ہو تو عزيز تر ہے نگاہ آئنہ ساز ميں

دمِ طوف کِرمَکِ شمع نے يہ کہا کہ وہ اثرِکہن
نہ تری حکايت ِسوز ميں، نہ مری حديث ِگداز ميں

نہ کہيں جہاں ميں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم ِخانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز ميں

نہ وہ عشق ميں رہيں گرمياں، نہ وہ حسن ميں رہيں شوخياں
نہ وہ غزنوی ميں تڑپ رہی، نہ وہ خَم ہے زُلفِ اياز ميں

جو ميں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زميں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کيا ملے گا نماز میں

This video is taken from a live show held at “Barood Khana”, a traditional 17th century Mughal-style Haveli of Mian Yousuf Salahuddin sahib in the Walled City of Lahore.

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=10156939902931505&id=106105346504&sfnsn=wiwspmo