ارمغانِ حجاز: نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبّيری

ارمغانِ حجاز:  نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبّيری

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبّيری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگيری

شبیر : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا لقب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسے حسین کو شبیر کہتے تھے۔
اندوہ : رنج و الم
دلگیری : غم زدہ، دل گرفتہ
اے مسلمان تیرے حالات کا تقاضا یہ ہے کہ اب تو اپنے اندر انقلاب پیدا کر یعنی خانقاہوں سے نکل کر باطل کے مقابلے میں صف آرا ہو جا جیسا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ باطل سے ٹکرا گئے تھے۔ کیونکہ خانقاہوں میں تو جس فقر کی تعلیم حاصل کر رہا ہے اس کا حاصل مایوسی، ناکامی اور رنج و الم کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

Nikl Kar Khanqahon Se Ada Kar Rasm-E-Shabeeri
Ke Faqr-E-Khanqahi Hai Faqat Andoh-O-Dilgeeri

Come out of the monastery and play the role of Shabbir,
for monastery’s faqr is but grief and affliction.