نعتِ نبّیﷺ: ہو سرِ بزمِ نبیؐ پہلے خدا کا تذکرہ

نعتِ نبّیﷺ: ہو سرِ بزمِ نبیؐ پہلے خدا کا تذکرہ

ہو سرِ بزمِ نبیؐ پہلے خدا کا تذکرہ
بعدِ میں کیجے شہِؐ ہر دو سرا کا تذکرہ

درج ہے قرآں میں روۓ والضحٰی کا تذکرہ
تا ابد ، شمسؐ الدالضحٰی ، بدرؐالدجٰی کا تذکرہ

لا سکی جس کی نہ دنیا حشر تک کوئی مثال
ہو اُسی محبوبؑ کے صدق وصفا کا تذکرہ

فرش تا عرشِ بریں ہے آپؐ ہی کا ذکرِ خیر
خود بھی کرتا ہے خدا خیرؐ الورا کا تذکرہ

ہے درود و ذکر اُنؐ کا باعثِ اجر و ثواب
ہو صمیمِ قلب سے ایک اک ادا کا تذکرہ

ہر گھڑی ہے چاہنے والوں کے وردِ لب ثنا
تا ابد ہوتا رہے گا مصطفٰےؐ کا تذکرہ

ظلمتِ شب ہو گئی کافور جب آۓ حضورؐ
انس و جاں باہم کریں رب کی عطا کا تذکرہ

بھیجتے ہیں جانثارانِ نبیؐ ہر دم درود
روز و شب جاری ہے محبوبِؐ خدا کا تذکرہ

شہؐ کی ذاتِ اقدس و اطہر کی ہے مَدح و ثنا
چار سو ہے بے کسوں کے ہمنوا کا تذکرہ

ہیں عمرؓ، عثمانؓ و بوبکرؓ و علیؑ سب چار یار
ہم کریں گے تا ابد اُن کی وفا کا تذکرہ

عطرہوزینؔب دہن ،جب حرف ہوں سارے
گلاب
چھیڑ نا پھر مصطفٰےؐ ، آلِ عبا کا تذکرہ

کلام: سیدہ زینب سروری