نعتِ نبّیﷺ: کہاں میں، کہاں مَدحِ ذاتِ گرامیﷺ

نعتِ نبّیﷺ: کہاں میں، کہاں مَدحِ ذاتِ گرامیﷺ


کہاں میں، کہاں مَدحِ ذاتِ گرامیﷺ
نہ سعدی، نہ رومی، نہ قدسی، نہ جامی

پسینے پسینے ہُوا جا رہا ہوں
کہاں یہ زُباں اور کہاں نامِ نامیﷺ

سلام اُس شہنشاہِ ہر دو سراﷺ پر
درود اُس امامِ صفِ انبیأﷺ پر

پیامی تو بے شک سبھی محترم ہیں
مگر اللہﷻ اللہﷻ خصوصی پیامیﷺ

فلک سے زمیں تک ہے جشنِ چراغاں
کہ تشریف لاتے ہیں شاہِ رسولاںﷺ

خوشا جلوۂِ ماہتابِ مُجسمﷺ
زہے آمد آفتابِ تمامیﷺ

کوئی ایسا ہادیﷺ دکھا دے تو جانیں
کوئی ایسا محسنﷺ بتا دے تو جانیں

کبھی دوستوں پر نظر احتسابی
کبھی دشمنوں سے بھی شیریں کلامی

اطاعت کے اقرار بھی ہر قدم پر
شفاعت کا اقرار بھی ہر نظر میں

اصولًا خطاؤں پہ تنبیہ لیکن
مزاجاً خطا کار بندوں کے حامی

یہ آنسو جوآنکھوں سےمیری رواں ہیں
عطائے شہنشاہِ کون و مکاںﷺ ہیں

مجھے مل گیا جامِ صبہائے کوثرﷺ
میرے کام آئی میری تشنہ کامی

فقیروں کو کیا کام طبل و عَلم سے
گداؤں کو کیا فِکر جاہ و حشم کی

عباؤں قباؤں کا میں کیا کروں گا
عطأ ہو گیا مجھ کو تاجِ غلامی

اُنہیںﷺ صدقِ دِل سے بُلا کےتودیکھو
ندامت کے آنسو بہا کے تو دیکھو

لیے جاؤ عُقبی ٰ میں نامِ مُحَمَّدﷺ
شفاعت کا ضامن ہے اسمِ گرامیﷺ

ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯽٰ ﺣﺒﯿﺒﮧ ﻣﺤﻤِّﺪ ﻭٰ ﺁﻟِﮧ ﻭﺳﻠﻢ