وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے، غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سينا

وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے، غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سينا

Word of the day: سُبُل

راستے ، طریقے ، راہیں
Ways, Means; Modes of life, Manners

وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سينا


تشریح:
آپ ﷺ ہی اُس صراطِ مستقیم سے واقف ہیں جو اللّٰہ ﷻ تک پہنچا سکتا ہے اور آپ ﷺ ہی کی ذات والا صفات ہے جس پر اس دنیا میں آنے والے انبیاء اور پیغمبروں کا سلسلہ ختم ہوا یعنی آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ آپ ﷺ ساری کائنات کے آقا اور سردار ہیں۔ آپ ﷺ ہی کی ذاتِ پاک ہے جو راستے کی گرد کو بھی کوہ طور کی تجلیات میں ڈھالنے کی قدرت رکھتی ہے۔

نگاہ عشق و مستی ميں وہی اول ، وہی آخر
وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی يسيں ، وہی طہ
تشریح:
اگر عشق و مستی کی نگاہ سے دیکھا جائے تو آپ ﷺ کی ذاتِ پاک اول بھی ہے اور آخر بھی۔
اول تو اس طرح کہ دنیا و آخرت ہر جگہ سب سے اول ہی ہیں۔ سب سے پہلے آپ ﷺ کا نور پیدا ہوا جیسا کہ فرمایا “اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہ نُوࣿرِیࣿ”۔ سب سے پہلے نبوت آپ ﷺ کو عطا ہوئی خود فرماتے ہیں “کُنࣿتُ نَبِیًّا وَّ اٰدَمُ بَیࣿنَ الطِّیࣿنِ والࣿمَاء” ہم اس وقت نبی تھے جب حضرت آدم اپنی آب و گل میں جلوہ گر تھے۔ میثاق کے دن اَلَسࣿتُ بِرَبِّکُمࣿ کے جواب میں سب سے پہلے بلیٰ فرمانے والے حضور ﷺ ہی ہیں۔ بروز قیامت سب سے پہلے آپ ﷺ کی قبرِ انور کھولی جائے گی۔ بروز قیامت اول حضور ﷺ کو سجدہ کا حکم ملے گا۔ سب سے پہلے حضور ﷺ شفاعت فرمائیں گے۔ اور شفاعت کا دروازہ حضور ﷺ ہی کے دست اقدس پر کھلے گا۔ اول حضور ﷺ ہی جنت کا دروازہ کھلوائیں گے۔ اول حضور ﷺ ہی جنت میں تشریف فرما ہوں گے بعد میں تمام انبیاء۔ پہلے حضور ﷺ ہی کی امت جنت میں جائے گی بعد میں باقی امتیں، غرضیکہ ہر جگہ اولیت کا سہرا ان ہی کے سر پر ہے۔
اس قدر اولیت کے باوجود پھر آپ ﷺ آخر بھی ہیں۔ سب سے آخر حضور ﷺ کا ظہور ہوا خاتم النبین آپ ہی کا لقب ہوا۔ سب سے آخر حضور ﷺ ہی کو کتاب ملی۔ سب سے آخر حضور ﷺ ہی کا دین آیا۔ سب سے آخر دن قیامت تک حضور ﷺ ہی کا دین رکھا گیا ہے۔
آپ ﷺ کا قلبِ مطہر مہبطِ وحی ہے، اس لیے آپ ﷺ قرآن (باطنی) بھی ہیں۔ آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ قرآن کی عملی تفسیر ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں “کَانَ خُلقہُ القران” یعنی آپ ﷺ کو اگر سیرت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو آپ ﷺ مجسم قرآن ہیں۔
آپ ﷺ کی ذات مبارک چونکہ معیار حق و باطل ہے اس لیے آپ ﷺ کو فرقان بھی کہہ سکتے ہیں یعنی حق اور باطل کے درمیان امتیاز کرنے والا۔ اور قرآن میں اللّٰہ ﷻ نے آپ ﷺ کو “یٰسین” اور “طٰہ” کے مقدس القاب سے بھی نوازا ہے۔

سنائی کے ادب سے ميں نے غواصی نہ کی ورنہ
ابھی اس بحر ميں باقی ہيں لاکھوں لولوئے لالا
تشریح:
اس شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ میں اس بات کو سوءادب خیال کرتا ہوں کہ حضور ﷺ کی ثناء میں حکیم سنائی سے بڑھ جاؤں، اس لیے اپنے قلم کو یہیں روکتا ہوں، ورنہ ابھی اس بحر میں لاکھوں موتی موجود ہیں۔ یعنی ذات محمدی ﷺ کی مدح و ثناء میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ “لاکھوں” کا لفظ استعمال کر کے اقبال نے نہایت بلیغ انداز میں اس طرف اشارہ کر دیا کہ حضور انور ﷺ کی ثناء کماحقہ طاقت بشری سے خارج ہے۔