یارِ  بے وفا

اے دوست کیا کمال کی دوستی دکھا گئے
خود چل دیے مجھے چھوڑ کر تنہا بٹھا گئے

مجھ کو تو پھر بھی اس پہ کوہی  گلہ نہیں
جاتے جاتے مجھے دنیا کی ریت سکھا گئے

کیا خوب تھا اگر پہلے سے ہی کنارا کیا ہوتا
اُف بھیج بنور میں لاکے مجھے یوں ڈبا گئے

مجھ کو تو تجھ سے دھوکے کا کوہی  یقیں  نہ تھا
ولیکن  بدلتے رنگ تمہارے  چہرے پہ چھاگئے

نادان تم ہی ہمسفر اور مرا رخت سفر بھی تھے
پھر تم ہی کیوں راہ پہ میرے  کانٹے بچھا گئے

اب کچھ بھی ہو  مجھے خود کی فکر نہیں رہی
کیسے تھے سراب خواب ہمارے سبق پڑھا گئے

یہ انسان بھی کیا عجیب ہے لالچ  میں بہکتے
وفا کے لبادے پہن کر دشمنی نبھا گئے

شوکت اِنہیں علم ہی کیا تری سادہ دلی کا
دیکھے ہیں تونے روتے ہویے جو اوروں کو رلا گئے

( ~ شوکؔت بڈھ نمبل کشمیری )