بالِ جبریل: مسجد قرطبہ: رُوحِ مسلماں میں ہے آج وہی اضطراب

بالِ جبریل: مسجد قرطبہ: رُوحِ مسلماں میں ہے آج وہی اضطراب

اس شعر کو سمجھنے کیلئے دورِ نبوی ﷺ خلافتِ راشدہ اور بعد کی سیاست و معاشرت پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔

,christian reformation فرانس کا انقلاب اور اٹلی کی نشاۃ ثانیہ کا حوالہ دینےکے بعد اقبال ؒنے اسلام کی روح کو سمجھنے اور دنیا کے سامنے ایک عملی نظام پیش کرنے کی حیثیت کے سوال پر اضطراب کی طرف اشارہ کیا ہے یہ اضطراب یورپ میں تبدیلیاں رونماں ہونےاور جدید دور کی روشن خیالی کی وجہ سے ہے۔تاریح گواہ ہے کہ دنیا میں خالص اسلامی نظام محض دورِ نبوی ﷺ اور خلافتِ راشدہ تک ہی قائم رہا ۔خلافتِ راشدہ میں خلیفہ کا انتخاب اور امورِ حکومت شورا کی بنیاد پر انجام پاتے تھے خلافتِ راشدہ کا دور 632ۓء سے 661 ء تک قائم رہا اس کا دارالخلافہ
حضرت عثمانؓ کے دور تک مدینہ تھا جبکہ حضرت علیؓ نے اس کو کوفہ منتقل کردیا۔اس کے بعد کے ادوار میں اسلام پھیلا تو ضرورلیکن بظاہر نظر آنے والی خلافت حقیقت میں بادشاہت کی ہی ایک قسم تھی۔634ء سے 750ء اسلامی خلافت بنو اُمیہ کے ۱۴ الخلفاءکے پاس رہی اس کا داراخلافہ دمشق تھا یہ ملوکیت نما خلافت شورائیت کے خلاف موروثی بنیادوں پر قائم تھی اقتدار کیلئے کشمکش کے نتیجےمیں 750ء میںبنو عباس نے ترکوں کی مدد سے خلافت پر قبضہ کرلیا اور اس خاندان کے 36 الخلفاء برسرِ اقتدار رہے اس کا دارلخلافہ بغداد تھا۔1258ء میں تاتاری سپہ سالار هلاکو خان نے خلیفہ معتصم باللہ کو ہلاک کرکے بنو عباس کی خلافت کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیا۔1299ء اناطولیہ کے مقامی حکمران عثمان نے پڑوسی حکرانوں کے ساتھ ملکر سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھی جو بعد میں خلافتِ عثمانیہ بن گئی ،شروع میں اس کا دارلخلافہ برصہ تھا 1453ء میں خلافتِ عثمانیہ کے خلیہ محمد دوئم ( سلطان محمد فاتح)نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور اس شہر کو اپنا دارلخلافہ مقرر کر لیا اس خاندان کی خلافت 1924ء تک قائم رہی اور اس کے 36 الخلفاءاور سلاطین رہے ہیں۔پہلی عالمی جنگ جوکہ 1914 سے لیکر 1924 تک رہی اس میں خلافتِ عثمانیہ نے سینٹرل پاور اتحاد میں شمولیت اختیار کی اور اس اتحاد کو شکست ہونے کی وجہ سے فاتح (France, Britain, Russia)Triple Entente قوتوں نے خلافتِ عثمانیہ کو تقسیم کرکے ان کے حصے آپس میں بانٹ لیئے بعد میں ان حصوں کو نئی ریاستوں کی شکل دے دی گئی ۔دوسری عالمی جنگ 1939 سے1945 کے دوران لڑے گئی دنیا کے ممالک دو اتحادوں میں تقسیم ہوئے الائید اتحاد فتح یاب ہوا اور ایکسز پاور اتحاد کو شکست ہوئی اس جنگ کے بعد نو آبادیاتی قوتوں کو فوجی ،معاشی اور انتظامی مشکلات کے علاوہ آزادی کیلئے مقامی تحریکوں کا بھی سامنا تھا جس کی وجہ سے ان کیلئے نو آبادیوں کوقا ئم رکھنا مشکل ہوگیا اس لیئے انھیں اقتدار مقامی لوگوں کے حوالے کرنا پڑا اور اکثر ملکوں پر اپنی پسند کے لوگوںکو مسلط کر دیا اس طرح بہت سے نئے اسلامی ملک وجود میں آئےجن میںاتحاد و یگانگت جیسی کوئی چیز موجو نہیں ہے بلکہ ان میں سے اکثر شدید اختلافات کی وجہ سے آپس میں جنگوں کا بھی شکار ہیں۔سامراجی قوتوں نے اسلامی دنیا پر مستقل نظر رکھنےکیلئے 1820 ء سے جاری آسٹریا کے یہودی رہنما تھیوڈور ہرزل کی زائنزم تحریک کی حمایت کی اور عالمِ اسلام کی شدید مخالفت کے باوجود فلسطین میں ایک یہودی ریاست قائم کروائی جو اپنے آغاز ہی سے مسلمان ریاستوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہے۔موجودہ تعلیم یافتہ مسلمان یورپ کی فکر ،سیاسی،معاشی اور سماجی نظام کو غور سے دیکھ رہا ہے اور اس کے سامنے قرآن کا نظام بھی موجود ہے یہ مسلمان اپنی منزل کی تعین کیلئے مضطرب ہے اس کو یقین ہے کہ مغربی فکر کے نتیجےمیں جو نظام وجود میںآیا ہے وہ غریب قوموں کا استحصال کرتا ہے جبکہ قرآن کا نظام دنیا کے ہر طبقے کیلئے مساوات اور برابری کا درس دیتا ہے اس کو یہ یقین بھی ہے کہ مسلمان کی حتمی اور آخری منزل قرآن کا دیا ہو دستور ہی ہےلیکن یہ کیسی ممکن ہوگا یہی سوال روحِ مسلمان کو مضطرب کیئے ہوئے ہے

(Bal-e-Jibril-124) Masjid-e-Qurtaba (مسجد قرطبہ) The Mosque of Cordoba
(Written in Spain, especially Cordoba)

The same storm is raging today In the soul of the Muslim.
A Divine secret it is, Not for the lips to utter.

رُوحِ مسلماں میں ہے آج وہی اضطراب
رازِ خدائی ہے یہ، کہہ نہیں سکتی زباں

Rooh-E-Musalman Mein Hai Aaj Wohi Iztarab
Raaz-E-Khudai Hai Ye, Keh Nahin Sakti Zuban