بانگِ درا: جوابِ شکوہ: بند نمبر 3,4

بانگِ درا: جوابِ شکوہ: بند نمبر 3,4

تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا
عرش والوں پہ بھی کھُلتا نہیں یہ راز ہے کیا!
تا سرِ عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا!
آگئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا!
غافل آداب سے سُکّانِ زمیں کیسے ہیں
شوخ و گُستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں!

اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے
تھا جو مسجودِ ملائک، یہ وہی آدم ہے!
عالِمِ کیف ہے، دانائے رموزِ کم ہے
ہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے
ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو