بانگِ درا: جوابِ شکوہ: بند نمبر 1,2

بانگِ درا: جوابِ شکوہ: بند نمبر 1,2

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
قُدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اُٹھتی ہے، گردُوں پہ گزر رکھتی ہے
عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا
آسماں چِیر گیا نالۂ بے باک مرا

پیرِ گردُوں نے کہا سُن کے، کہیں ہے کوئی
بولے سیّارے، سرِ عرشِ بریں ہے کوئی
چاند کہتا تھا، نہیں! اہلِ زمیں ہے کوئی
کہکشاں کہتی تھی، پوشیدہ یہیں ہے کوئی
کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رِضواں سمجھا
مجھے جنّت سے نکالا ہوا انساں سمجھا