ضربِ کلیم: بھوپال شیش محل میں لکھا گیا: وہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز

Ye Sehar Jo Kabhi Farda Hai Kabhi Hai Amroz
Nahin Maloom Ke Hoti Hai Kahan Se Paida

The morn (morning) that shifts so soon tomorrow new,
Whence it comes is only known to few:

Woh Sehar Jis Se Larazta Hai Shabistan-e-Wujood
Hoti Hai Banda-e-Momin Ki Azan Se Paida

The dark abode of being is shook by morn,
Which by Muslimʹs call to prayer is born.

Bhopal (Sheesh Mehal) Mein Likhe Gye

وہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز
نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا
وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندہ مومن کی ازاں سے پیدا
فرہنگ :-
فردا = آنے والا کل
امروز = آج کا دن
شبستانِ وجود = کائنات
تشریح :
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ تو مجھے معلوم نہیں۱؎ کہ یہ سحر جس سے ہم کل اور آج کا شمار کرتے ہیں کیسے اور کہاں سے پیدا ہوتی ہے لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ وہ سحر، جس سے یہ کائینات کانپ اٹھتی ہے، بندہ مومن کی اذاں۲؎ سے پیدا ہوتی ہے. یعنی مومن کی نعرہ تکبیر ’اللہ اکبر‘ میں ایسی تاثیر ہے کہ ساری کائینات لرزہ براندام ہوجاتی ہے اور بڑے بڑے بت سہم جاتے ہیں.
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایک سحر تو وہ ہے جو طلوع آفتاب سے پیدا ہوتی ہے اور اس کی مدد سے ہم ماہ وسال کا شمار کرتے ہیں لیکن ایک سحر اور بھی ہے جس سے ایوانِ وجود میں زلزلہ پڑ جاتا ہے اور وہ سحر مومن کی اذاں سے پیدا ہوتی ہے.

۱؎۔ اقبال کا کہنا ہے کہ ’’نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا‘‘ محض تجاہل عارفانہ ہے.
مطلب ان کا یہ ہے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ وہ سحر طلوعِ آفتاب سے پیدا ہوتی ہے.

۲؎۔ اسلامی تاریخ میں بندہء مومن کی اذاں سے ایسی سحر پیدا ہونے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، میں صرف ایک سحر کا حال درج کرتا ہوں۰
۷ جولائی ۷۱۱ عیسوی کو جب طلوعِ آفتاب سے پہلے مسلمانوں نے سر زمینِ اندلس میں فجر کی آذاں دی اور جنگ سے پہلے اپنے سپہ سالار طارق بن زیاد کی امامت میں نماز ادا کی تو وہ سحر پیدا ہوئی جس سے اسپین (اندلس) کی سر زمین لرزہ براندام ہوگئی.
(شرح ضربِ کلیم، یوسف سلیم چشتی )

Roman Urdu :-
Ye Sehar Jo Kabhi Farda Hai Kabhi Hai Amroz
Nahin Maloom Ke Hoti Hai Kahan Se Paida
Woh Sehar Jis Se Larazta Hai Shabistan-e-Wujood
Hoti Hai Banda-e-Momin Ki Azan Se Paida

English Translation :-
The morn (morning) that shifts so soon tomorrow new,
Whence it comes is only known to few:
The dark abode of being is shook by morn,
Which by Muslimʹs call to prayer is born.