تنہائی میں کیے اعمال کا اثر ظاہری رویے پر ہوتا ہے

تنہائی میں کیے اعمال کا اثر ظاہری رویے پر ہوتا ہے

‏امام ابن الجوزي رحمه الله فرماتے ہیں:

والله! میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص نماز روزے کی کثرت کرنے والا، کم گو، سادہ طبیعت اور سادہ لباس والا ہوتا ہے، مگر دل ہیں کہ اس سے دور بھاگتے ہیں، دلوں میں اس کی خاطر خواہ قدر نہیں ہوتی۔

‏❐ اور دیکھا ہے کہ ایک شخص سجے دھجے لباس والا، کوئی خاص عبادت اور خشوع بھی نہیں، مگر دل ہیں کہ اس کی محبت میں کھنچتے چلے جاتے ہیں۔ میں نے اس کے سبب پر غور کیا تو دیکھا کہ یہ تنہائی ہے! …

‏❐ جو اپنی تنہائی سنوار لیتا ہے، اس کی خوبیوں کی خوشبو چہار سُو پھیل جاتی ہے، دل اس خوشبو کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ ﷲ تعالیٰ کیلیے تنہائیاں سنوارو! کہ خلوتیں خراب ہوں تو جلوتوں کی خوبیاں کچھ فائدہ نہیں دیتیں .

[ صيد الخاطر : ٢٢٠/١ ]

نوٹ: اللہ پاک ہمیں اپنی تنہایاں پاک کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
آمین یا رب العالمین