لفظ درد پر غزل : گواہ ایکس پریس

لفظ درد پر غزل : گواہ ایکس  پریس

دل میں چپھے اس درد کو دکھاؤں کیسے
بسمل ہوں ترا تجھے سمجھاؤں کیسے

اوڑھتا ہوں چہرے پہ فریبی خوش مزاجی
افسردہ ہوں بلا دل کو مناؤں کیسے

ٹوٹا ہوں اندر سے ہوں خانہ ویراں ہوں
بکھری عمارت دوبارہ بناؤں کیسے

چھینے ہو چارہ گر تمہیں صبر و قرار
غیروں سے اپنے غم کو سناؤں کیسے

آنکھوں میں پھوٹنے کو چشمہِ اشک اس قدر
موجِ طوفاں ہے پلکوں پہ سجاؤں کیسے

شؔوکت راہِ وفا کی رسم تو یہی ہے
ستمِ یار نہ سہوں تو وفا نبھاؤں کیسے

~ شوکت بڈھ نمبل کشمیری
پتہ بڈھ نمبل کپوراہ