بانگِ درا: جوابِ شکوہ: بند نمبر 7,8

شرح جوابِ شکوہ – بند 7 اور 8

ہاتھ بے زور ہيں’ الحاد سے دل خوگر ہيں
امتی باعث رسوائی پيغمبر ہيں
بت شکن اٹھ گئے’ باقی جو رہے بت گر ہيں
تھا براہيم پدر اور پسر آزر ہيں

بادہ آشام نئے ، بادہ نيا’ خم بھی نئے
حرم کعبہ نيا’ بت بھی نئے’ تم بھی نئے

وہ بھی دن تھے کہ يہی مايہ رعنائی تھا
نازش موسم گل لالہ صحرائی تھا
جو مسلمان تھا’ اللہ کا سودائی تھا
کبھی محبوب تمھارا يہی ہرجائی تھا

کسی يکجائی سے اب عہد غلامی کر لو
ملت احمد مرسل کو مقامی کو لو

Here is the link to the full poem, Shikwah: https://goo.gl/a1qpmG

Stay tuned and do leave us your feedback.

If you like this initiative, let others know. If you think we can improve on something, let us know.

Regards,
Team IIS – International Iqbal Society