نعتِ شریف: یہ کون طائر سدرہ سے ہمکلام آیا

نعتِ  شریف: یہ کون طائر سدرہ سے ہمکلام آیا

عربی کے ایک شاعر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں ایک نعت لکھی، اس نعت کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں چالیس ہزار اشعار ہیں، اور دنیا میں اور کوئی ایسی ہستی نہیں جس کی شان میں چالیس ہزار اشعار کہے گئے ہوں

اس نعت کا آخری شعر اتنا زبردست ہے کہ وہ چالیس بزار اشعار پر بھاری ہے ، اور اس شعر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کسی انسان میں تاب نہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال و محاسن کا احاطہ کر سکے

اردو کے شاعر حفیظ تائب نے اس شعر کا ترجمہ کچھ یوں کیا ہے

تھکی ہے فکر رسا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مدح باقی ہے
قلب ہے آبلہ پا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدح باقی ہے
تمام عمر لکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مدح باقی ہے
ورق تمام ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدح باقی ہے
……
یہ کون طائر سدرہ سے ہمکلام آیا
جہان خاک کو پھر عرش کا سلام آیا
جبیں بھی سجدہ طلب ہے یہ کیا مقام آیا
زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے

خط جبیں ترا ام الکتاب کی تفسیر
کہاں سے لاوں ترا مثل اور تری نظیر
دکھاوں پیکر الفاظ میں تری تصویر
مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے

کہاں وہ پیکر نوری کہاں قبائے غزل
کہاں وہ عرش مکیں اور کہاں نوائے غزل
کہاں وہ جلوہ معنی کہاں ردائے غزل
بقدرِ شوق نہیں ظرف تنگنائے دل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے

تھکی ہے فکر رسا اور مدح باقی ہے
قلم ہے آبلہ پا اور مدح باقی ہے
تمام عمر لکھا اور مدح باقی ہے
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے