بانگِ درا: جوابِ شکوہ: بند نمبر 11,12

شرح جوابِ شکوہ – بند 11 اور 12

صفحہ دہرئے سے باطل کو مٹايا کس نے؟
نوع انساں کو غلامی سے چھڑايا کس نے؟
ميرے کعبے کو جبينوں سے بسايا کس نے؟
ميرے قرآن کو سينوں سے لگايا کس نے؟

تھے تو آبا وہ تھارے ہی’ مگر تم کيا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

کيا کہا ! بہر مسلماں ہے فقط وعدہ حور
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور
عدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستور
مسلم آئيں ہوا کافر تو ملے حور و قصور

تم ميں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہيں
جلوئہ طور تو موجود ہے’ موسی ہی نہيں

Stay tuned and do leave us your feedback.

If you like this initiative, let others know. If you think we can improve on something, let us know.

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=10156550756876505&id=106105346504