حیات و موت نہیں التفات کے لائق
فقط خودی ہے خودی کی نگاہ کا مقصود

حیات و موت نہیں التفات کے لائق<br>فقط خودی ہے خودی کی نگاہ کا مقصود

اس نظم میں اقبالؒ نے اپنے پیش کردہ “مقصود” کا موازنہ دنیا کے دور مشہور حکیموں کے پیش کردہ مقصود سے کیا ہے۔ پہلے اسپنوزا کی تعلیم پیش کی ہے پھر افلاطون کی، اور آخر میں اپنا نظریہ پیش کیا ہے۔

اس نظم میں تین شعر ہیں، اور ہر شعر میں ایک فلسفی کے خیالات کا نچوڑ پیش کیا ہے۔ جب تک ان میں حکیموں کے فلسفہ سے پورے طور پر آگاہی نہ ہو، نہ شعروں کا مطلب پورے طور پر سمجھ میں آ سکتا ہے، نہ اقبالؒ کی ژرف نگاہی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ شرح اس تفصیل کی متحمل نہیں ہو سکتی اس لیے مَیں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس کتاب میں تو صرف اشعار کی شرح پر اکتفا کروں، اور ان حکماء کے فلسفہ کی تفصیل ایک جداگانہ کتاب میں لکھوں، جس میں صرف یہی تین شعر ہوں، ناظرین کی آگاہی کے لیے اسپنوزا اور افلاطون کے مختصر سوانح حیات درج کیے دیتا ہوں۔

  • اسپنوزا *

حکیم اسپنوزا، یہودی الاصل تھا سنہ 1632ء میں ہالینڈ (HOLLAND) میں پیدا ہوا۔ ابتدا میں مذہبی تعلیم حاصل کی، لیکن فلسفہ کے مطالعہ کے بعد یہودی مذہب سے برگشتہ ہو گیا۔ چناچہ سنہ 1656ء میں علمائے یہود نے اس کو جماعت سے خارج کر دیا۔ انجام کار اُس نے ہیگ (THE HAGVE) میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ اور بقیہ عمر اسی شہر میں بسر کر دی۔ وہ عینکوں کے شیشے پالش کر کے اپنی روزی کماتا تھا، اور خلوت میں فلسفیانہ تصانیف میں مشغول رہتا تھا۔ اس کی تصانیت میں علم الاخلاق (ETHIES) سب سے زیادہ مشہور ہوٸی۔ اسی کتاب میں اُس نے اپنا فلسفہ مدون کیا تھا۔ جو وحدة الوجود پر مبنی ہے۔ سنہ 1677ء میں وفات پائی ۔

  • افلاطون *

افلاطون، مُلک یونان میں سنہ 427ء ق م میں پیدا ہوا تھا۔ پہلے مختلف اُستادوں سے فنونِ لطیفہ (شاعری مصوری اور موسیقی) اور فلسفہ حاصل کیا سنہ 447ء ق م میں سقراط کی شاگردی اختیار کی۔ سنہ 49ء ق م میں سقراط کی وفات کے بعد مصر اور دیگر ممالک کا سفر کیا۔ اگرچہ وہ بہت بڑا فلسفی اور منطقی تھا، لیکن شاعری اور تصوف کا بھی ذوق رکھتا تھا۔ سنہ 507ء ق م میں وفات پاٸی۔ اس کی تمام تصانیت ہم تک پہنچی ہیں۔ ان میں سے مکالمات (THE DIALOGUE) اور جمہوریت (THE REPUBLIC) بہت مشہور ہیں۔ اس کے فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ دنیا جو آنکھوں سے نظر آتی ہے غیر حقیقی (UNREAL) ہے، اسی لیے فانی بھی ہے اور ناقص بھی۔ اصلی یا حقیقی دنیا نگاہوں سے مخفی ہے۔ اور یہ دنیا اُسی کا ظل یا عکس ہے۔
………………………………………………

— مقصود —

| سپنوزا |

نظر حیات پہ رکھتا ہے مردِ دانش مند
حیات کیا ہے، حضور و سرور و نور و وجود

On life is fixed tile gaze of persons bright,
what is life? Presence; being, joy and light.

لغت

مردِ دانشمند: عقل اور شعور والا انسان
حضور: موجودگی، مُراد خدا کی تجلیات آنکھوں کے سامنے ہونا
سرُور: خوشی، روحانی مسرت
نُور: روشنی، جلوہ
وجود: پیدا ہونے کی کیفیت، تمام کاٸنات میں خدا کا ظہور

# تشریح

پہلے شعر میں اقبالؒ نے یہ بتایا ہے کہ اسپنوزا کی رائے میں انسان کا نصب العین حیات ہے۔ اور حیات کی اعلٰی ترین صورت یہ ہے کہ ذی حیات، یعنی انسان کو خدا کی ہستی کا احساس ہو جائے اور اس احساس سے اُسے روحانی لذت یعنی سرور حاصل ہو۔ یہ سرور ایک مستقل چیز ہے۔ اور انسان اسی حالتِ سرور میں ابد تک رہے گا۔

| فلاطوں |

نگاہ موت پہ رکھتا ہے مردِ دانش مند
حیات ہے شبِ تاریک میں شرر کی نمود

A wise man knows that ‘fore death he must bow,
what is life? Presence; being, joy, and light.oses glow.

لغت

شبِ تاریک: اندھیری رات
شرر کی نمود: چنگاری کے ظاہر ہونے کی حالت

# تشریح

افلاطون کہتا ہے کہ حیات، شبِ تاریک میں شرر کی نمود سے زیادہ نہیں ہے۔ بس اس کی حقیقت اتنی ہی ہے جیسے اندھیری رات میں کوٸی چنگاری ایک لمحہ کے لیے چمک کر فنا ہو جائے۔ یعنی حیات کوٸی مستقل چیز نہیں ہے۔ اس لیے “حیات” انسان کا مقصود نہیں ہو سکتی، بلکہ دانشمند وہ ہے جو موت کو مقصود بنائے۔ کیونکہ موت کے بعد انسان اس غیر حقیقی دنیا سے رہاٸی پا کر حقیقی دنیا میں داخل ہو جاۓ گا۔

| علامہ اقبالؒ |​​

حیات و موت نہیں التفات کے لائق
فقط خودی ہے خودی کی نگاہ کا مقصود

Both life and death deserve not any heed
the Self of man is Ego’s goal and need.

لغت

التفات: توجہ، کسی چیز کو اہمیت دینا
لاٸق: مستحق

# تشریح

اقبالؒ کہتے ہیں کہ انسان کا مقصود نہ زندگی ہے نہ موت ہے، بلکہ خودی ہے۔ یعنی اللّٰه نے انسان کو اس غرض سے پیدا کیا ہے کہ وہ اطاعتِ احکامِ الٰہی یا اتباعِ شریعت کی بدولت اپنی خودی (معرفت) کی مخفی قوتوں کو بروئے کار لا کر خلافتِ الٰہیہ کا مستحق بن سکے۔ جو شخص ان مخفی قوتوں کو بروئے کار نہیں لاتا، وہ اپنی تخلیق کے منشاء سے بیگانگی کا ثبوت دیتا ہے۔ پس اس کی زندگی اور موت یا اس کا وجود اور عدم دونوں یکساں ہیں۔ اللّٰه نے انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے نفس کا تزکیہ کرے، تاکہ فلاح پائے۔

القرآن – سورۃ نمبر 91 الشمس آیت نمبر 9

أَعـوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَكّٰٮهَا۞

ترجمہ:

جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا.

اس پر دال ہے۔ پس اصلی مقصود “فلاح” ہے اور یہ منحصر ہے تزکیہء نفس پر، جسے اقبالؒ اپنی اصطلاح میں استحکامِ خودی سے تعبیر کرتے ہیں۔