خاموشی ہزار نعمت ہے

خاموشی ہزار نعمت ہے

خاموشی ہزار نعمت ہے
نعمتِ خداوندی اور اہلِ معرفت کا شیوہ
شوکت بڈھ نمبل کشمیری

خاموشی کے لفظی معنی چپ ہونے کے ہیں مگر اہلِ تصوف کے نزدیک خاموشی باطنی توجہ کو کہتے ہیں۔ اور اس سے مراد یہ ہے کہ ایسی بات کہی جائے جو حق پہ مبنی ہو اور جس کی ضرورت ہو اور اس بات سے بچا جائے جو لاعینی ہو اور جس سے مزہبی اور دنیاوی نقصان اور بگاڑ کا اندیشہ ہو۔
شیخ اکبر علامہ ابن العربی نے خاموشی کے دو اقسام بیان فرمائی ہیں۔ اول زبان کی خاموشی جس سے مراد ان باتوں سے گریز کرنا جن کا تعلق غیر اللہ کے ساتھ ہو اور جو عوام اور راہِ طریقت کے سالقین کی منزل ہے۔ دوم دل کی خاموشی جس سے مراد دل میں شیطانی وسووسوں کو پیدا نہ کرنا ہے۔
خاموشی بہٹ بڑی نعمت کا پیش خیمہ ہے۔اس کے باعث اللہ تعلٰی اپنے بندے کو صحیع علم اور راہِ نجات کا شعور عطا فرماتا ہے۔ اس سے درست قول و فعل کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ خاموشی انسان میں کم گویائی کی عادت پیدا کرتی ہے اور ایسے کلام سے نجات کا ذریعہ فرہم کرتی جس سے انسان کو اپنے مالک کی ذکر و رضا سے دور ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے۔
خاموشی نعمت خداوندی کے حصول کا ذریعہ ہے اور اس سے انسان اپنے ربّ کے انعامات سے سرفراز ہوتا ہے۔
اس بات کا شاہد قران مقدس سے بڑکر اور کیا ہوسکتا ہے۔ اللہ پاک نے جب اپنے پیغمبر حضرت زکریاؑ کو بیٹے کی صورت میں بڑی نعمت عطا کرنی چاہی تو خاموشی کی تلقین فرمائی اور صبح و شام تسبیح کرنے کا حکم بھی فرمایا۔
سورہ آلِ عمران میں اللہ تعلٰی ارشاد فرماتے ہیں
تمہارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے سوائے اشارے کے بات نہیں کرسکوگے اور اپنے ربّ کو کثرت سے یاد کرو اور شام اور صبح اس کی تسبیح کرتے رہو۔
41:سورہ آلِ عمران

خاموشی صوفیاء ، اہلِ معرفت اور اہلِ نظر کا شیوہ ہے۔ اہلِ معرفت اپنے کلام پر خاص نگراں ہوتے ہیں۔ اگر تمام کلام حق ہو تو کہہ دیتے ہیں ورنہ خاموش رہتے ہیں۔ کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ ہماری ہر بات کو اللہ تعلٰی براہِ راست سن رہا ہے بلکہ وہ ہماری آپس کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں سے بھی واقف ہے اور دل سے اٹھنے والی ہر کیفیات کو جاننے والے ہیں اور اس کے فرشتے ہماری ہر عمل کو محفوظ کرتے ہیں اور ہماری زباں سے ہر نکلے لفظ کو تحریر کرلیتے ہیں ۔ لیکن اکثر لوگ نادان ہوتے ہیں جن کا ایمان اہلِ معرفت سے بالکل برعکس ہوتا ہے اور وہ اس حقیقت سے منہ پھیر لیتے ہیں اور گمراہی میں ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں قران پاک کی سورہ الزخرف میں اللہ پاک نے یوں فرمایا ہے؛
کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم اُن کی پوشیدہ باتیں اور اُن کی سرگوشیاں نہیں سنتے ، کیوں نہیں ضرور سنتے ہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے بھی اُن کے پاس لکھ رہے ہوتے ہیں۔
حضرت عیسٰیؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ہمیں ایسا عمل بتائیں جس سے ہم جنت میں داخل ہوجائیں۔ آپؑ نے نے خاموش رہنے کی تلقین فرمائی۔ لوگوں نے کہا کہ ایسا تو بہت مشکل ہے۔ اس پر آپؑ نے جواب دیا کہ صرف بھلائی کی بات کی جائے۔
غزالی احیاء علوم الدین
حضرت داتا گنج بخشؒ اپنی کتاب کشف المحبوب میں لکھتے ہیں ؛ کلام کی دو اقسام ہیں؛ ایک کلامِ حق ہے اور دوسرا
کلامِ باطل ہے۔ اور سکوت بھی دو طرح کے ہیں ؛ ایک سکوتِ حصولِ مقصد کیلئے اور دوسرا سکوت غفلت کی وجہ سے ہے۔
کوئی بارگاہ ایسی بھی ہوتی ہے کہ جہاں خاموشی تکلم سے ہزارہا درجہ بہتر ہوتی ہے۔ اس کی مثال بارگاہ نبوت وِ رسالتﷺ ہے کہ وہاں کثرتِ کلام انسان کی نیکیوں کی بربادی اور اللہ تعلی کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔ حضرت موسیؑ کی قوم کا معمول تھا کہ وہ آپؑ کی بارگاہ میں خاموش نہ رہتی اور اُنؑ سے طرح طرح کے سوالات کرتی رہتی۔ اس چیز کا نقشہ پیش کرت ہوئے اور امتِ مُحَمَّدیﷺ کو تنبہ کرت ہوئے اللہ پاک نے قرآنِ کریم کی سورہ البقرہ میں ارشاد فرمایا ہیں ؛
اے مسلمانو کیا تم چاہتے ہو کہ تم بھی اپنے رسولﷺ سے اس طرح سوالات کرو جیسا کہ اس سے پہلے موسیؑ سے سوال کئےگئے تھے تو جو کوئی ایمان کے بدلے کفر حاصل کرے پس وہ واقعتاً سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
80:سورہ الزخرف، آیت
اس آیتِ مبارکہ میں بارگاہِ نَبّیﷺ کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ یہ فرمایا گیا ہے کہ آپﷺ سے موسیؑ کی قوم کی طرح بےجا سوالات نہ کئےجائے کہ آپﷺ تمہارے مسائل کو تم سے بہتر جانتے ہیں۔ وہ تمہارے سوال کئے بغیر ہی ان کے بارے میں تمہاری رہنمائی فرمادیں گے۔لہزا بارگاہِ رسالتﷺ میں ادب کے ساتھ خاموش بیٹھے رہو۔ اسی میں تمہارے ایمان کی سلامتی ہے۔
حضرت ابو ھریرہؓ سے مروی ہے کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا ؛
جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہے کہ اچھی بات منہ سے نکالے یا خاموش رہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نَبّی کریم ﷺ نے فرمایا؛
اے ابو ذر میں تجھے ایسی بات نہ بتاۏں جو نہایت سبک یعنی کم وزن اور ہلکی ہیں لیکن اعمال کے ترازو میں بہت بھاری ہیں۔ حضرت ابو ذرؓ نے عرض کی۔ جی ضرور فرمائیں۔ آپﷺ نے فرمایا؛
طویل خاموشی اور خوش خلقی، قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ان دو خصلتوں سے بہتر مخلوق کیلئے کوئی کام نہیں ہے۔
کثرتِ کلام اللہ عزوجل سے دوری کا باعث ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ حضرت نَبّی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا؛
اللہ تعلٰی کے ذکر کے سوا زیادہ گفتگو نہ کرو کیوں کہ ذکرِ الہٰی کے بغیر کثرتِ کلام سے دل کی سختی کا باعث ہے اور سخت دل آدمی اللہ تعلٰی سے بہت دور رہتا ہے۔
ترمزی، الجامع الصحیح
جب ہم دنیا کے عظیم مفکر ، شعراء صوفیاء اور اہل معرفت کا مطالع کرتے ہیں تو خاموشی کے بارے میں نہایت ہی غیرمعمولی بیان اور تلقین ملتی ہے۔
علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کا ایک شعر اس حوالے سے بالکل منفرد اور اعلٰی ہے

بخلوتی که سخن می شود حجاب آنجا
حدیث دل به زبان نگاه می گویم
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ وہ خلوت جہاں پر سخن ، بات، آواز یا حرف حجاب بن جاتا ہے وہاں میں اپنی بات نگاہوں کی زبان سے کہتا ہوں۔
صوفیاء ، اہلِ معرفت اور اہلِ نظر کے کلام میں چاہے شاعری ہو یا نثر جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے کلم یا تکلم یا گفتار پر خاموشی کو ترجیح اور فوقیت دی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ جب ہمارے دماغ میں کوئی خیال آتا ہے یا دل میں کوئی کیفیات پیدا ہوتی ہے تو ہم اسے لفاظ کا لبادہ پہناتے ہیں لیکن اصل خیال یا کیفیات ہمارے دماغ اور دل میں ہوتا ہے اور جس کے معنی کا دائرہ بے انتہا ہوتا ہے لیکن جب ہم انہیں چند الفاظ میں پیروتے ہیں یا پیش کرتے ہیں تو وہ خیال و کیفیت انہی چند الفاظ کے دائرے یا معنی میں مقید ہوجاتا ہے اور اس طرح وسیع خیال و کیفیت کو ایک محدود آئینہ مل جاتا ہے۔
شمس تبریز کے مقالات جوکہ مقالاتِ شمس کے نام سے محفوظ ہے کا جب ہم مطالع کرتے ہیں تو ایک مقام پہ شمس تبریز فرماتے ہیں کہ میں بات یا سخن کو کہتا نہیں ہوں بلکہ میرا سخن، میری بات میرے اندر ہی رہتا ہے کیوں کہ میں اسے الفاظ میں بیاں نہیں کرتا ہوں اور اس کو مقید نہیں کرتا۔ غور کریں کہ یہ کیسی عجیب اور محاورہ عقل بات ہے۔ غرض ذہنی خیالات اور دلی کیفیات کو الفاظ میں من و ان آشکار کرنا ممکن نہیں۔ لہزا صوفیاء کے جتنے بھی کلام ہیں ان کے الفاظ جامع ملتے ہیں اور خاموشی جھلکتی ہے۔
جب ہم مولانا رومیؒ کا مطالع کرتے ہیں جن کو علانہ اقبالؒ اپنا مرشدِ کامل مانتے تھے اور جن کی علامہ اقبالؒ کی فکری دنیا پہ گہرا اثر تھا تو ان کے متعلق غیرمعمولی حقائق جاننے کو ملتے ہیں۔ مولانا رومیؒ نے کبھی اپنا تخلص رومی نہیں کیا بلکہ ان کے تخلص کے حوالے سے عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔ مولانا رومیؒ کی اکثر شاعری میں خاموش یا خاموشی یا اس کا کوئی معنوی بیان مقطع میں آتا ہے۔ اور جب ہم پوری فارسی شاعری کا مطالع کرتے ہیں تو ان کا تخلص نہ صرف ان کے نام کے برعکس ہے بلکہ معنوی انداز میں بھی بالکل منففر اور عجیب ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے تکلم اور گفتار پر خاموشی کو ترجیح دی ہے۔
صوفیاء اور اہلِ معرفت کا یہ بھی مقام رہا ہے چونکہ وہ زیادہ قُربِ الہٰی کے طالب ہوتے تھے اور خلوت زیادہ پسند فرماتے تھے۔ چونکہ ان کا اللہ کی ذات پہ غیر متزلزل ایمان تھا اور سمجھتے تھے کہ چونکہ اللہ ان کے دلوں کے قریب ہے اور ہر ظاہر و باطن سے خوب واقف ہے لہزا وہ اللہ کے حضور اپنے خیالات اور کیفیات کو پیش کرنے میں تکلم کو زیادہ ترجیح نہیں دیتے تھے بلکہ برعکس اس کے اُن کا زیادہ وقت فکر اور آہوں اور سحرگائی میں گزرتا تھا۔ جس کی ذکر علامہ اقبالؒ کے اس شعر میں ہے؛
عطارؔ ہو رومیؔ ہو رازیؔ ہو غزالیؔ ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحرگاہی
ان قرآنی آیات، احادیث نبوی صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم اور اقوال صلحاء کی روشنی میں یہ واضح ہو گیا کہ ہمارے لئے خاموشی بولنے سے بہتر ہے۔ یہ اجتماعی اعتکاف زبان کی خاموشی کے ساتھ ساتھ دل کی خاموشی تربیت لینے کا ذریعہ ہے۔
لہزا معلوم ہوتا ہے کہ خاموشی ہزار نعمت ہے ۔لیکن ہمیں خاموشی کو صحیع سمت میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تلقینِ خاموشی سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ ہم ہر پہلو اور ہر بات میں خاموش رہیں۔ اللہ پاک نے جہاں سماعت کیلئے ہمیں دو کان دیے ہیں وہاں گویائی کیلئے ایک زبان بھی عطا کی ہے۔ اور ہمیں اس زبان کو اللہ کی ذکر و ثنا کیلئے اور اللہ اور اللہ کے نَبّیﷺ کی عظیم فرمودات کے پرچار کیلئے ہرگز خاموش نہیں رکھنا ہے بلکہ اعتدال اور آداب کے ساتھ اسے اللہ کے احکام کو ہر سو پھیلانے میں استعمال میں لانا ہے۔ نیز ہمیں باطل اور ظلم کے سامنے ہرگز خاموش نہیں رہنا ہے بلکہ اس کے خلاف خوب مجاہدہ کرنا ہے۔ لہزا خاموشی سے معلوم ہوتا ہے کہ لاعینی باتوں بالکل گریز کیا جائے اور اپنے اندر کم گوئائی کی عادت پیدا کیا جائے ۔ اسلئے مفکروں اور دانشوروں کا خیال ہے کہ اللہ پاک نے جہاں ہمیں دو کان دیے ہیں وہاں زبان صرف ایک عطا کی ہے۔ اس سے مراد ہمیں گفتار سے زیادہ سماعت اخیار کرنا چاہیے۔ لیکن جہاں تک زبان کا تعلق ہے یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے جو انسان کو عطا گئی اور جس کی بدولت یہ حیوانِ ناطق کہلایا۔ اللہ کے دین کو پھیلانے میں اور انسانی فلاہ کیلئے اسے ہمیشہ حکمت اور اعتدال سے استعمال کرنا ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں انبیاؑ اور صالحین کے فرمودات کو سمجھنے اور عملانے کی طوفیق عطا فرمائیں اور اللہ پاک ہمیں اپنی رضا عطا فرمائیں۔

شوکت بڈھ نمبل کشمیری : تحریر
بڑھ نمبل کپواراہ کشمیر
7889424854