ارمغانِ حجاز: ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو: ملا زادہ ضیغم لولابی کشمیری کا بیاض

ارمغانِ حجاز:  ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو: ملا زادہ ضیغم لولابی کشمیری کا بیاض

چوتھی نظم

گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو
تھرتھراتا ہے جہان چار سوے و رنگ و بو

When the enslaved people’s rage boils and they rise in revolt against the master,
This world of near and far, of colour and smell, becomes the scene of tremors and convulsions.

اس نظم میں علامہ اقبال نے یہ کہا ہے کہ جب غلامی کی ذلت و رسوائی سہتے سہتے غلام قوم زندگی سے عاجز آ جاتی ہے تو اس کے اندر آزادی کا جذبہ بیدار ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس قوم کے افراد کا خون جوش مارنے لگتا ہے یعنی جب وہ حکمرانوں کے ظالمانہ طرز عمل کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ان کے اندر انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

پاک ہوتا ہے ظن و تخمیں سے انساں کا ضمیر
کرتا ہے ہر راہ کو روشن چراغ آرزو

It purifies man’s conscious eschewing all doubts and misgivings,
When the lamp of high ideals is lit, brightening all paths leading to the goal.

آہستہ آہستہ ان کا ضمیر شکوک و شبہات سے پاک ہو جاتا ہے یعنی وہ اپنے لیے طریق عمل متعین کر لیتے ہیں جس میں تخمین و ظن کی بجائے حقائق کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ وہ خیالی دنیا سے نکل کر عملی دنیا میں آ جاتے ہیں اور ان کے اندر حصول آزادی کا بے پناہ جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔

وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیں
عشق سیتا ہے انہیں بے سوزن و تار رفو

There are old melodies and ancients scars the people suffer from, that intellect fails to cure and heal,
But love shows its skill and without the help of physician’s talents removes all scars and cures all woes.

اس قوم کے افراد جو دیرینہ عیوب (چاک) ہوتے ہیں جن کو عقل دور نہیں کر سکتی وہ سب آزادی کے جذبہ (عشق) کی بدولت دور ہو جاتے ہیں۔ عشق ان سب پرانے چاکوں کو سوئی کے بغیر ہی سی دیتا ہے یعنی سستی، کاہلی، تن آسانی اور عیش پسندی یہ سب خرابیاں اور برائیاں دور ہو جاتی ہیں۔آزادی کا جذبہ افراد کو ان تمام برائیوں سے پاک کر دیتا ہے۔

ضربت پیہم سے ہو جاتا ہے آخر پاش پاش
حاکمیت کا بت سنگیں دل و آئینہ رو

The master’s sturdy body with a heart of stone and face of a mirror,
Gets soon smashed up and beaten down at the repeated blows of the weak slave.

جب افراد میں آزادی کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے تو افراد یک دل، یک جان اور ہم آہنگ ہو کر باطل کے مقابلے میں سینہ سپر ہو جاتے ہیں اور ان کی ضربت پیہم سے ملوکیت کا بت ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔

ضربت پیہم : پے در پے وار

شرح از جناب یوسف سلیم چشتی صاحب