“Beware of the supplication of the oppressed, for there is no barrier between it and Allah.”

“Beware of the supplication of the oppressed, for there is no barrier between it and Allah.”

“Beware of the supplication of the oppressed, for there is no barrier between it and Allah.”


وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ

Source: Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4090

آج وہ کشمير ہے محکوم و مجبور و فقير
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ايران صغير
تشریح:
اس نظم میں علامہ اقبال نے کشمیریوں کی غلامی پر ماتم کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ انقلاب روزگار تو دیکھو آج وہ کشمیری غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں جو اپنی نفاست، ذہانت، دانشمندی اور تہذیب کے لحاظ سے ایرانیوں کے ہم پلہ ہیں۔ واضح ہو کہ تیرہویں صدی سے سترہویں صدی تک تبلیغ اور تجارت کے سلسلہ میں اس قدر ایرانی خاندان کشمیر میں آ کر آباد ہو گئے کہ اہل نظر اس خوبصورت خطہ کو “ایران صغیر” کہنے لگے۔
سينہء افلاک سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک
مرد حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امير
تشریح:
اس میں کیا شک ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی بادشاہ یا نواب سے مرعوب ہو جاتا ہے اور کلمہ حق کہنے کی بجائے اس کی غلامی اختیار کر لیتا ہے تو فرشتوں کے سینوں سے بے اختیار آہ نکلتی ہے یعنی یہ حادثہ ساری دنیا کے لیے رنج و غم کا موجب ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے مسلمان کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ دنیا کو ملوکیت کی لعنت سے پاک کر دے گا لیکن اگر وہ خود ہی اس لعنت میں گرفتار ہو جائے تو پھر بنی آدم کے حق میں اس سے بڑھ کر اور کیا بدبختی ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کا غلام ہو جانا ساری دنیا کے لیے پیام ہلاکت ہے۔
کہہ رہا ہے داستاں بيدردی ايام کی
کوہ کے دامن ميں وہ غم خانہء دہقان پير
تشریح:
غلام ہو کر کشمیر کا مسلمان جن مصائب و مشکلات کا شکار ہو گیا ہے ان کی داستان کسی انسان سے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں۔ پہاڑوں کے دامن میں واقع کسانوں کا ہر گھر غم خانہ بنا ہوا ہے اور زبان حال سے باشندوں کی حالت زار کی داستان سنا رہا ہے۔
آہ! يہ قوم نجيب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دير گير؟
تشریح:
افسوس کہ یہ قوم جو حسب و نسب کے اعتبار سے اعلیٰ ہے اور ہنر مند اور ذہین ہے اور پھر بھی غلامی کی زندگی بسر کر رہی ہے۔
آخری مصرع میں علامہ اقبال خدا سے فریاد کرتے ہیں کہ روز مکافات (بدلے کا دن) کب آئے گا۔ بےشک تو دشمنوں کو ڈھیل دیتا (دیر گیر) ہے لیکن اب تو کشمیری مسلمانوں کی ذلت اور رسوائی کی انتہا ہو گئی ہے۔ اب تو ان کو غلامی سے نجات دے اور انہیں موقع دے کہ وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لے سکیں۔


(شرح از جناب یوسف سلیم چشتی)