حنانہ: وہ درخت جو عشق رسول ﷺ میں بہت رویا

حنانہ: وہ درخت جو عشق رسول ﷺ میں بہت رویا

“ حنانہ “
وہ درخت جو عشق رسول ﷺ میں
اتنا رویا اتنا رویا
کہ صحابہ بھی حیران رہ گئے۔۔۔

مسجد نبوی ﷺ میں یہ مقام اس عظیم درخت حنانہ سے منسوب ہے۔
جس نے اللہّٰ کے نبی ﷺ سے جدائی پر
اتنا گریہ کیا، اتنا گریہ کیا کہ صحابہ حیران رہ گئے!
اور آپﷺ نے اس پر شفقت فرما کر اسے جنت میں بھیج دیا تھا ۔
بخاری شریف اور احادیث و سیرت مبارکہ کی کتابوں میں فراق النبی ﷺ میں بلکتے ’’حنانہ ‘‘ کا ذکر موجود ہے ۔
’حنانہ ‘‘ سردار الانبیا کے معجزات کی صداقت کا گواہ ہے

امام شرف الدین بوصیریؒ نے بھی
قصیدہ بردہ شریف میں کہا ہے
’’ آپﷺ کی پکار پر اشجار، بغیر قدموں کے،
اپنی پنڈلیوں پر چلتے ہوئے،
آپﷺ کی طرف چل پڑے‘‘

ان درختوں میں سے سب سے خوش نصیب درخت ’’حنانہ‘‘ ہے!

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
وہ بیان کرتے ہیں
کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک ستون سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے۔
پھر رسول اکرمﷺ کے لیے ایک صحابی نے لکڑی کا منبر بنا کر مسجد نبویﷺ میں رکھ دیا۔
پھر جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے منبر تیار ہوگیا تو
آپﷺ خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے اس پر رونق افروز ہوئے،
تو خشک درخت حنانہ کا بنا ہوا وہ ستون،
جس سے ٹیک لگا کر آپﷺ خطبہ ارشاد فرماتے تھے،
بلک بلک کر رونے لگا۔۔۔
آپ کی جدائی وہ برداشت نہ کرسکا
اسکی سسکیوں میں اتنی شدت تھی اتنا کرب تھا
اس کی گریہ میں
مجلس میں موجود تمام صحابہ کرامؓ آبدیدہ ہو گئے۔
اس کی فریاد اتنی غم ناک تھی کہ لگتا تھا
کہ شدتِ غم سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔

بعض روایات میں ہے کہ

“آپ کی جدائی کے غم میں “ حنانہ “
اس طرح رویا جیسے اونٹ کا بچہ اپنی ماں کے کھو جانے پر روتا ہے”
اونٹ کے بچے کے اس طرح رونے کو عربی میں
‘ حنانہ ‘ کہتے ہیں

آنحضرتﷺ نے جب ستون کی بے قراری ملاحظہ فرمائی تو خطبہ موخر فرما کر
اس ستون کے پاس آئے اور اسے اپنے سینے سے لپٹا لیا۔ پھر صحابہ کرامﷺ سے فرمایا

’’”یہ درخت میری جدائی میں گریہ کناں ہے۔
قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،
اگر میں اسے سینے سے لپٹا کر دلاسا نہ دیتا
تو یہ قیامت تک اسی طرح میری جدائی کے غم میں روتا رہتا۔۔۔””

حضور اکرمﷺ نے حنانہ کے اس تنے سے پوچھا
’’کیا تو پسند کرتا ہے کہ میں تجھے واپس اسی باغ میں اُگا دوں جہاں سے تجھے کاٹا گیا ہے۔
وہاں تجھے ہرا بھرا کر دیا جائے۔
یہاں تک کہ قیامت تک مشرق و مغرب سے آنے والے اللہ کے دوست حجاج کرام تیرا پھل کھائیں؟‘‘
اس نے عرض کیا:
’’اے پیکرِ رحمتﷺ میں تو آپﷺکی لمحاتی جدائی برداشت نہ کر سکا،
قیامت تک کی تنہائی کیسے برداشت کروں گا؟‘‘

آپﷺنے پوچھا ’’کیا تو یہ چاہتا ہے۔۔

کہ میں تجھے جنت میں سرسبزوشاداب درخت بنا کر اگادوں
اور تو جنت کی بہاروں کے مزے لوٹے؟
‘‘ستون حنانہ نے یہ انعام قبول کر لیا۔
چنانچہ اسے منبر اقدس کے قریب زمین میں دفن کر دیا گیا۔
تدفین کے بعد حضور اکرمﷺ نے فرمایا
’’اس نے دارفنا پر دارِبقا کو ترجیح دی ہے

منقول ہے!
کہ جب حضرت حسن بصریؒ یہ حدیث بیان کرتے
تو شدت جذبات سے رو پڑتے اور فرماتے

’’اے اللہ کے بندو!
لکڑی ہجرِ رسولﷺ میں روتی
اور آپﷺ کے دیدار کا اشتیاق رکھتی ہے۔
انسان تو اس سے زیادہ حق رکھتا ہے

در تحیر ماند اصحابِ رسول
کز چہ مے نالد ستوں با عرض و طول

(اس نے عرض کیا : میں وہ بننا چاہتا ہوں جو ہمیشہ رہے۔ اے غافل! تو بھی بیدار ہو اور ایک خشک لکڑی سے پیچھے نہ رہ جا (یعنی جب ایک لکڑی دار البقاء کی طلب گار ہے تو انسان کو تو بطریقِ اولیٰ اس کی خواہش اور آرزو کرنی چاہئیے۔)

(اس ستون کو زمین میں دفن کردیا گیا، تاکہ قیامت کے دن اسے انسانوں کی طرح اٹھایا جائے۔