بانگِ درا: پھلا پھولا رہے يا رب! چمن ميری اميدوں کا

بانگِ درا: پھلا پھولا رہے يا رب! چمن ميری اميدوں کا

پھلا پھولا رہے يا رب! چمن ميری اميدوں کا
جگر کا خون دے دے کر يہ بوٹے ميں نے پالے ہيں

Phala Phula Rahe Ya Rab ! Chaman Meri Umeedon Ka
Jigar Ka Khoon De De Kar Ye Boote Main Ne Pale Hain

O Lord, the garden of my hopes may remain prosperous
I have raised these plants watering them with my blood

اے خدا! میری امیدوں کے باغ کو پھولا پھلا رکھ، میں نے امیدوں کے بوٹے جگر کا خون دے دے کے پالے ہیں، ہر شخص کی امیدیں اسے حد درجہ عزیز ہوتی ہیں، گویا کہا جا سکتاہے کہ اس نے امیدوں کی پرورش کے لیے جگر کا خون استعمال کیا ہے اور اس کے دل سے یہی دعا اٹھتی رہتی ہے کہ یہ امیدیں ہمیشہ تروتازہ رہیں۔


(غلام رسول مہر)