Shab e Mi’raj Special
اختر شام کی آتی ہے فلک سے آواز

Shab e Mi’raj Special<br>اختر شام کی آتی ہے فلک سے آواز

Akhtar-e-Shaam Ki Ati Hai Falak Se Awaz
Sajda Karti Hai Sahar Jis Ko, Woh Hai Aaj Ki Raat

This call of the evening star is coming from the sky
This is the night before which the dawn prostrates

رہ يک گام ہے ہمت کے ليے عرش بريں
کہہ رہی ہے يہ مسلمان سے معراج کی رات

Reh-e-Yak Gaam Hai Himmat Ke Liye Arsh-e-Bareen
Keh Rahi Hai Ye Musalman Se Meeraj Ki Raat

“For courage, the Arsh‐i‐Barin is only a pace away”
The Mi’raj’s night is saying this to the Muslim

اس بلاغت آفرین قطعہ میں اقبال نے معراج نبوی سے، جو نبوت کے بارہویں سال میں واقع ہوئی تھی، سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ اگر مسلمان کوشش کرے اور ہمت سے کام لے تو اسے بھی قرب الہی حاصل ہو سکتا ہے۔ بالفاظ دگر اگر مسلمان سرکار دو عالم کی کامل اتباع کرے تو وہ بھی خدا تک پہنچ سکتا ہے۔
اقبال نے یہ نکتہ حضور انور کے اس ارشاد گرامی کی بدولت پیدا کیا ہے “نماز مومنوں کے لیے (معراج) قرب الہی کا ذریعہ ہے” اس قطعہ کو پڑھتے وقت معراج کے دو معنی مدنظر رکھئے۔
(۱) معراج کے اصطلاحی معنی یعنی حضور کی معراج (جس میں کوئی شریک نہیں)
(۲) معراج کے مرادی معنی یعنی قرب خدا وندی (جو ہر مومن کو نصیب ہوتا ہے)


شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی