اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی اندازہے

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی اندازہے

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی اندازہے
مشرق و مغرب ميں تيرے دور کا آغاز ہے

ہمت عالی تو دريا بھی نہيں کرتی قبول
غنچہ ساں غافل ترے دامن ميں شبنم کب تلک
نغمہ بيداری جمہور ہے سامان عيش
قصہ خواب آور اسکندر و جم کب تلک
آفتاب تازہ پيدا بطن گيتی سے ہوا
آسمان! ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک
توڑ ڈاليں فطرت انساں نے زنجيريں تمام
دوری جنت سے روتی چشم آدم کب تلک
باغبان چارہ فرما سے يہ کہتی ہے بہار
زخم گل کے واسطے تدبير مرہم کب تلک

کرمک ناداں! طواف شمع سے آزاد ہو
اپنی فطرت کے تجلی زار ميں آباد ہو