کہا پہاڑ کي ندي نے سنگ ريزے سے
فتادگي و سرا فگندگي تري معراج

کہا پہاڑ کي ندي نے سنگ ريزے سے<br>فتادگي و سرا فگندگي تري معراج

Word of the day: افگندگی
گرا پڑا ہونا، خاک سار
Downtrodden State, Throwing Down

کہا پہاڑ کي ندي نے سنگ ريزے سے
فتادگي و سرا فگندگي تري معراج
ترا يہ حال کہ پامال و درد مند ہے تو
مري يہ شان کہ دريا بھي ہے مرا محتاج
جہاں ميں تو کسي ديوار سے نہ ٹکرايا
کسے خبر کہ تو ہے سنگ خارہ يا کہ زجاج

اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ اگر کوئی شخص دنیا کو اپنے ذاتی کمالات کا معترف بنانا چاہتا ہے یا اپنی خودی کی قوتوں کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو اُسے “دیوار سے ٹکرانا” لازمی ہے۔ یعنی اُسے مشکلات اور آفات کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور اس کے لیے مناسب تیاری شرط اولین ہے۔ دنیا کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ “قوت” کے سامنے جھکتی ہے۔ خود اقبال ہی نے لکھا ہے۔
؏ کہ سر بہ سجدہ ہیں قوت کے سامنے افلاک
اسی لیے اقبال مسلمانوں کو یہ تلقین کرتے ہیں کہ اپنے اندر قوت پیدا کرو کیونکہ “دیوار” سے وہی شخص ٹکرا سکتا ہے جس میں قوت ہو۔
(یوسف سلیم چشتی)
شعر نمبر ۱
کہا پہاڑ کی ندی نے سنگ ريزے سے
فتادگی و سرا فگندگی تری معراج
مشکل الفاظ کے معنی:
سنگ ریزہ: پتھر کا چھوٹا سا ٹکرا۔ کنکر
فتادگی: ایک جگہ پڑا رہنا۔ عاجزی
سرافگندگی: سر جھکانا
تشریح:
پہاڑ کی ندی نے کنکر سے کہا کہ تو ایک جگہ پڑے رہنے، یعنی عاجزی اور سرنگونی ہی کو زندگی کا کمال سمجھے بیٹھا ہے۔
(شرح غلام رسول مہر)
پہاڑ کی ندی نے ایک دن سنگریزے سے کہا کہ مجھے تیری حالت پر افسوس آتا ہے۔ کیونکہ تیری زندگی کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ تو زمین پر پڑا رہے اور اسی حالت میں فرسودہ ہو کر تباہ ہو جائے۔
(شرح یوسف سلیم چشتی)
شعر نمبر ۲
ترا يہ حال کہ پامال و درد مند ہے تو
مری يہ شان کہ دريا بھی ہے مرا محتاج
تشریح:
تیری حالت یہ ہے کہ تجھے ہر کوئی پاؤں سے روند ڈالتا ہے اور تو دکھ درد میں مبتلا رہتا ہے۔ ذرا میری شان تو دیکھ کہ دریا بھی میرے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ یعنی میں پہاڑوں سے ٹکراتی اور خود اپنا راستہ بناتی آگے بڑھتی چلی جاتی ہوں۔ دریاؤں اور سمندروں کا وجود میرے ہی دم قدم سے قائم ہے۔
(شرح غلام رسول مہر)
مجھے دیکھ! میں کہنے کو تو چھوٹی سی ندی ہوں لیکن میری قوت کا یہ عالم ہے کہ میں پہاڑوں سے ٹکراتی ہوں اور اپنی ضربوں سے چٹانوں کو توڑ دیتی ہوں اور آگے بڑھنے کے لیے اپنا راستہ بناتی ہوں، یہی تو وجہ ہے کہ دریا بلکہ سمندر بھی میرے محتاج ہیں۔
(شرح یوسف سلیم چشتی)
شعر نمبر ۳
جہاں ميں تو کسی ديوار سے نہ ٹکرايا
کسے خبر کہ تو ہے سنگ خارہ يا کہ زجاج
مشکل الفاظ کے معنی:
سنگ خارا: ایک قسم کا سخت پتھر
زجاج: شیشہ۔ کانچ
تشریح:
۔ تو نے دنیا میں کسی دیوار سے ٹکر نہ لی۔ کون جانتا ہے کہ تو سنگ خارا ہے یا نرا کانچ۔
مطلب یہ ہے کہ تو نے زندگی میں کبھی بہادروں کی طرح آفتوں اور مصیبتوں کا مقابلہ کر کے اپنے جوہر نہ دکھائے۔ دنیا تو اسی کو باکمال سمجھتی ہے جو بے پناہ قوت و طاقت کے بل پر پیش آنے والی شدید مشکلات سے ٹکرا کر ان پر غالب آجائے اور لوگوں سے اپنی سربلندی اور عظمت کا لوہا منوا لے جب تو ہر وقت سر جھکائے چپکے سے زمین پر پڑا رہتا ہے، تو دنیا کیونکر تیری بڑائی کی قائل ہو؟ لہذا اسے کہاں خبر کہ تو سخت پتھر ہے یا شیشے کا ایک نرم و نازک ٹکرا۔


(شرح غلام رسول مہر)


مجھے تیری حالت پر افسوس اس لیے آتا ہے کہ اگرچہ تو اپنی ذات کے لحاظ سے سنگ خارہ (سخت پتھر) ہے لیکن تو اہنسا کا پجاری بن گیا ہے۔ یعنی کسی دیوار سے نہیں ٹکراتا، خاموش سر جھکائے زمین میں پڑا رہتا ہے۔ اس لیے دنیا تیری ذاتی خوبی سے نہ واقف ہے، نہ ہو سکتی ہے، یا دنیا تجھے کانچ سمجھے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟ کیا تو نے کبھی کسی دیوار سے متصادم ہو کر اپنی حقیقت کا اظہار کیا؟ اندریں صورت ؏
کسے خبر کہ تو ہے سنگ خارہ یا کہ زجاج


(شرح یوسف سلیم چشتی)