محبت و ہوس اور دل و دماغ ، یہ سب کیا ہے؟

محبت و ہوس اور دل و دماغ ، یہ سب کیا ہے؟


تحریر: شوکت بڈھ نمبل کشمیری

دلاسے تو پل بھر کیلئے ہوتے ہیں لیکن محبتیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے۔ جب یہی محبتیں انسان سے چھِن جاتی ہے تو انسان ہمیشہ کیلئے محروم اور مجروح رہ جاتا ہے۔ غرض محبتوں کا نعم البدل نہیں بلکہ اِنکے چھِن جانے کے بعد صبر کا ہی راستہ رہ جاتا ہے۔ انسانوں سے بے حواسی اور بدضمیری سے ہی محبتیں فراموش ہوسکتی ہیں۔ ورنہ محبت ایسی چیز ہے جو شاید روح تن سے جدا ہونے کے بعد بھی ساتھ نہیں چھوڑتی۔ محبت تو اللّٰه کی عطا کردہ عظیم نعمت ہے جس کی بدولت ہی انسان اس تاریک اور سرابی دنیا میں جینے کے اہل ہے ورنہ یہ دنیا محض اک زندان اور عزاب کے مانند رہ جاتی۔ محبت کبھی ہوس نہیں ہوسکتی ہے ۔ اگر انسان میں ہوس آجائے تو پھر یہ محبت نہیں رہتی۔ محبت خالص چیز ہے جس کو کبھی بھی آلودہ ہونے کے احتمال رہتے ہیں۔ محبت اللّٰه کی طرف سے ہوتی ہے بلکہ ہوس شیطان کی طرف اُبھرتی ہے۔
محبت عبادت الہٰی ہے اور حوس دنیاوی آزمایش اور شیطانی شکنجہ ہے۔ محبت فقط اللّٰه ہی کیلئے ہوتی ہے جو مخلوق کے ساتھ کی جاتی جب کہ ہوس شیطان کے اثر میں ہوجاتی ہے جو کہ نفس سے کی جاتی ہے۔ نفس ایسی شے ہو جو ہمیشہ انسان کو سراب دیتی ہے اور نفس کو ہمیشہ کاہلی، سستی اور دنیا طلبی میں آرام ملتا ہے ۔ نفس کو ہمیشہ دنیا میں ہی کامیابی دکھتی ہے اور یہ ہمیشہ انسان کو خسارے میں ڈال دیتا ہے۔ محبت کی جگہ دل میں ہوتی ہے جب کہ حوس کا ٹھکانا نفس رہتا ہے۔ محبت کی روح رحم کہلاتی ہے جس کی ذکر احادیث میں اس طرح وارد ہے

” عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ لِلَّہِ مِاءَۃَ رَحْمَۃٍ أَنْزَلَ مِنْہَا رَحْمَۃً وَاحِدَۃً بَیْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالْبَہَاءِمِ وَالْہَوَامِّ، فَبِہَا یَتَعَاطَفُونَ، وَبِہَا یَتَرَاحَمُونَ، وَبِہَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَی وَلَدِہَا، وَأَخَّرَ اللہُ تِسْعًا وَتِسْعِینَ رَحْمَۃً، یَرْحَمُ بِہَا عِبَادَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ “

حضرت ابو ھریرہؓ سے روایت ہے کہ نَبّی کریم صلى اللّٰه عليه و سلم نے ارشاد فرمایا ؛ اللّٰه تعالی کے پاس رحمت کے سو حصے ہیں اللّٰه نے اس میں ایک حصہ جنوں ،انسانوں ، کیڑوں مکوڑوں میں اتارا اسی وجہ سے وہ آپس میں ایک دوسرے سے نرمی اور رحم کا معاملہ کرتے ہیں اور اسی وجہ سے جانور اپنے بچے پر پیار رکھتا ہے ننانوے حصہ اللہ نے بچا رکھا ہے جس کے ذریعے اللّٰه تعالی قیامت کے دن اپنے بند وں پر رحم فرمائے گا
(صحیح مسلم حدیث نمبر۔۲۷۵۲ )​

اللّٰه نے انسانوں میں ایک ایسی صفت پیدا کی ہے جس سے ایک انسان دوسرے انسان سے نرمی وشفقت سے پیش آتا ہے اور وہ رحم کی صفت ہے اگر انسان دوسرے انسان پر رحم کرے تو اللّٰه نے اس سے رحمت و مغفرت کا وعدہ کیا ہے۔

مفکر اسلام ڈاکٹر علامہ اقبال اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا ہے

دل کی آزادی شہنشاہی، شِکَم سامانِ موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم!

دل انسانی جسم میں مرکزیت کا حامل ہے۔ قلب مومن کو اللّٰه کا گھر ہے (قلب المومن بیت اللّٰه ) اور عرش الٰہی کہا گیا ہے ۔ علماء سے لیکر شاعروں تک اس موضوع کے تشنگی کا شکار ہے لیکن قرآن کریم اور سرکار دو عالمؐ کی احادیث کا مطالعہ کرنے پہ سب سیراب ہوگئے ۔

حضور پر نورؐ نے ارشاد فرمایا سنو جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہوتا ہے تو سارا جسم درست ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے ‘‘۔

“وہی ہے جس نے اتارا اطمینان دل میں ایمان والوں کے”
(سورة الفتح: آیت :٤)

غرض یہ اللّٰه کی یاد ہے جو انسان کو حقیقی خوشی دیتی ہے۔ اللّٰه کریم نے انسانوں کے غورفکر کیلئے اپنی اس وسیع کائنات میں لاتعداد نشانیاں بکھیر دیں تاکہ ان نشانیوں پر غور ، فکر کے ذریعے وہ معرفت الٰہی حاصل کرسکے ۔

انسانی جسم میں دل کی اہمیت کے بارے میں حضورؐسرور کونین کا ارشاد ہے انسان کا دل بہت قیمتی چیز ہے کیونکہ اس کے اندر اللّٰه تعالیٰ کی پہچان سماتی ہے جس ذات کو وہ ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا وہ دل کی معرفت سے دیکھ سکتا ہے‘‘۔

قلب کے صرف یہ معنی نہیں کہ وہ انسانی جسم کو صرف گردشِ خون بخشتا ہے بلکہ یہ گوشت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا معرفت الٰہی اور ادراک کا اہم ترین ذریعہ ہے جسکا اثر پوری انسانی زندگی پر قائم ہے۔

حضرت اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا۔
خُرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں

جہاں تک دماغ کا تعلق ہے۔ یہ اللّٰه کی عطا کردہ عظیم نعمت ہے اور آزمائش ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر رہے کہ ہر اللّٰه کی عطا کردہ چیز انساں کیلئے نعمت ہے اور آزمایش بھی۔ دماغ انسان کو صیح اور غلط نفع و نقسان میں امتیاز کرنے کی صلاحیت بخشتا ہے۔ کون سا راستہ ٹھیک اور کونسا غلط ہے یہ دماغی فعل یعنی عقل سے ہی پتہ چلتا۔ البتہ دماغ ہی وہ چیز ہے جو دونوں یعنی دل اور نفس کی رہنمائی کرتا ہے۔ رحمانی الہام ہو یا شیطانی تسلط یہ دماغ پر ہی رہتا ہے۔ اور دماغ ہی ارد گرد ماحول سے اثر انداز ہوتا ہے۔ غرض انسان کو چاہیے کہ دماغ کو بہتر صیح اور خالص ماحول دینے کی کوشش کریں تاکہ نفس کے برعکس دل ہی کو ترجیح مل جائے اور دماغ اور دل کے درمیان تال میل پیدا ہو۔

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے
نظّارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے

اچھّا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

انسان کے دل میں ہمیشہ اللّٰه ہی رہ سکتا ہے اور شیطان کا اس میں ٹھکانہ نہیں۔ لیکن جب انسان کے دماغ پہ شیطان کا تسلط آجاتا ہے تو شیطان نفس پہ آکر جگہ کرلیتا ہے اور نفس کی ترجمانی حاوی ہوجاتی ہے اور دل اللّٰه سے خالی ہوجاتا ہے تاریک اور مردہ رہ جاتا ہے کیوں کہ اللّٰه کی رحمانیت شیطان کے زیر تسلط کبھی ٹھکانہ نہیں کرتی ۔ جہاں تک اللّٰه کے موجود ہونے کا تعلق ہے وہ ہرجگہ ہے اسکی ربّوبیت ہر جگہ موجود ہے لیکن اسکی رحمانی اور محبت سے لبریز نورانی تجلیات وہی ٹھکانہ کرتی ہیں جہاں شیطانی غلبہ نہ ہو۔
ایک طرح سے دیکھا جائے تو زیادہ تر مومنین انسانی دل کو روحانی وجود کی بنیاد سمجھتے ہیں، یعنی یہ دل ہی ہے جو جھکتا ہے اور پھر پورا جسم اس کی تقلید کرتا ہے۔ اللّٰه وہ ہے جو دلِ انسانی کی جھلی اور دل کے بیچ موجود ہے

“اور جان لو کہ اللّٰه آدمی اور اسکے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتا ہے اور یہ کہ تمہیں اس کی طرف اٹھنا ہے “
(سورة انفعال: آیت ٢٤)

جہاں تک شیطان کے قوت تسلط کا تعلق ہے، یہ اسے اللّٰه ہی نے اس کے مردود ہونے سے پہلے کے کئے ہوئے نیک اعمال کے بدلے عوض میں دیے ہیں جو کی فقط دنیا ہی میں ہی محدود ہے اور حشر ہوتے ہی وہ بےبس اور بے مدگار رہ جائے گا اور ہمیشہ دوزخ کا مکین بن کر رہ جائے گا۔ اللّٰه پاک سے دعا ہے کہ ہمیں محبت جیسی عظیم نعمت سے ہمیشہ مستفید رکھے۔ ہمیں ہوس سے بچائے رکھے۔ ہماری دماغ پہ اپنی رحمانی تجلیات کا تسلسل بنائے رکھے ۔ اللّٰه پاک ہمارے دلوں اپنا ٹھکانہ کرے ۔ ہمیں نفس کی پیروی سے بچائے۔ ہمیں شیطان مردود سے بچائے اور اپنا قرب عطا فرمائے۔

( ~ شوکت بڈھ نمبل کشمیری )