حمّد باری تعلیٰ :اسے جبار کہتے ہیں اسے قہار کہتے ہیں

اسے جبار کہتے ہیں اسے قہار کہتے ہیں
چھپا لیتا ہے عیبوں کو اسے ستار کہتے ہیں

وہ شاہ ہے بادشاہوں کا خدا ہے ناخداؤں کا
اچھالے تخت شاہوں کا بھرے دامن گداؤں کا

وہ مالک ہے زمینوں کا زمانوں کا مکانوں کا
وہ خالق ہے ستاروں کا نظاروں کا خزانوں کا

دنوں میں اسکی عظمت ہے پوشیدہ راز راتوں میں
یہ عزت اور ذلت کے ترازو اس کے ہاتھوں میں

وہی مولا وہی داتا وہی ہے بس اللہ میرا
میں منگتا ہوں اسی در کا وہی ہے بس خدا میرا

میں اسکا ہوں وہ میرا ہے اسی کو پیار کہتے ہیں
اسے رحمان کہتے ہیں اسے کریم کہتے ہیں