چراغ تلے اندھیرا

چراغ تلے اندھیرا

عمل: دعوت و تبلیغ کی روح

عالم اور واعظ کیلئے سب سے بڑی اڑچن یہ رہتی کہ اسے عمل پیرا ہونے میں بہت رکاوٹیں آتی ہے۔ اُسے وعظ گوئی چونکہ سرور بخشتی ہے لیکن عمل میں اُسے شیطانی تسلط اور کاہلی سے سامنہ کرنا پڑتا ہے ۔ وہ چونکہ دوسروں کو مستفید کرتے ہیں ۔ دوسرے اُن سے سُن کر اعمال کر لیتے ہیں لیکن خود وہ ایسے شمع کے مانند رہ جاتے ہیں جو اپنے ارد گرد کو تو روشن کرلیتا ہے لیکن اپنے تہہ میں  اندھیرا چھوڑ جاتا ہے ۔ جیسے کہ مشہور کہاوت ہے  ” چراغ تلے اندھیرا ” لہزا ضرورت اس بات کی ہے کہ عالم اور واعظ ہی نہیں بلکہ ہر مومن سورج کے مانند ہو  جو سراپا نور ہی نور ہوتا ہے اور پورے جہاں کو روشن کرلیتا ہے۔   قرآن کریم میں ایسے لوگوں کیلئے جو خود عالم بھی ہوں اور واعظ بھی ہوں لیکن خود عامل نہ ہوں کیلئے اس طرح وعید وارد ہے؛
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنْـتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَO
ترجمہ: کیا تم دوسرے لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم (اللّٰہ کی) کتاب (بھی) پڑھتے ہو، تو کیا تم نہیں سوچتے؟
( البقرة، ٤٤:٢)
اور ایک مقام پر فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَO كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَO
ترجمہ: اے ایمان والو! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو۔ اللّٰہ کے نزدیک بہت سخت ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے۔
( الصَّفّ، ٦١: ٣-٢)

رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اس حوالے سے فرمان یوں ہے  :
١ ۔ سیدنا ابو زید اسامہ بن زید رضی اللّٰہ عنھما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہوئے سنا کہ، قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جس سے اس کے پیٹ کی آنتیں نکل آئیں گی وہ آنتوں کو لے کر اس طرح گھومے گا جس طرح گدھا چکی کو لے کر گھومتا ہے۔ دوزخ والے اس کے پاس اکٹھے ہو کر کہیں گے، اے فلاں! تجھے کیا ہوا؟ (یعنی آج تو کس حالت میں ہے؟) کیا تو لوگوں کو نیکی کا حکم نہیں دیتا اور برائی  سے نہیں روکتا تھا؟ وہ کہے گا : ہاں میں لوگوں تو نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود اس نیکی پر عمل نہیں کرتا تھا اور لوگوں کو برائی سے منع کرتا تھا لیکن میں خود برائی میں مبتلا تھا۔   صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر :٢٩٨٢
اس حوالے سے امام محمد بخاری رحمت اللّٰہ علیہ کا قول مقبول ہے کہ؛
 وعظ گوئی سے تب تک بچو جب تک کہ تم عامل نہ بنو۔
اس  سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ ہم دعوت و تبلیغ کو چھوڑدیں بلکہ دعوت و تبلیغ ہر مسلمان کی بنیادی ضمہ داری ہے۔ دعوت تو جسم کے مانند ہے اور عمل روح کے۔ اور بغیر دونوں کے وجود نا مکمل ہے ۔ دراصل دعوت اور عمل دو لازمِ ملزوم چیزیں اور مومن کی ضمہ داریاں ہیں۔ نیز واعظ اور عامل مومن کے دو پہلو ہے۔ 
اللّٰہ پاک قرآن پاک میں حکم صادر کرتے ہیں؛ 
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ     (سورة آل عمران)
ترجمہ: تم سب امتوں میں سے بہتر ہو جو لوگوں کے لیے بھیجی گئی ہیںتم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اللّٰہ پر ایمان رکہتے ہو۔
غرض مومن کی ضمہ داری ہے کہ وہ خود علم سیکھتے ہوئے اور دوسرے کو سکھاتے ہوئے وہ خود بھی عمل پیرا ہو اور دوسروں کو بھی  عمل کی تلقین کرے۔ اور پھر خلوص کا جامہ پہنا کر عِجز و اِنکساری کے ساتھ اعمال کو اللّٰہ کے ہاں مقبول بنوائیں۔
عمل کے حوالے سے حکیم الامت ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا ہے
یہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہے
  اللّٰہ پاک نے ہر شے میں ہمارے لئے اپنی نشانیاں اور نصیحتیں رکھی ہیں۔
اللّٰہ پاک قرآن کریم کی سورة نحل میں  فرماتے ہیں؛
وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّـهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرَاتٌ بِاَمْرِهٖ ۗ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ (١٢) 
ترجمہ : اور رات اور دن اور سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا ہے، اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں، بے شک اس میں لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سمجھ رکھتے ہیں۔
وَمَا ذَرَاَ لَكُمْ فِى الْاَرْضِ  مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٝ ۗ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَذَّكَّرُوْنَ (١٣)۔ 
ترجمہ: اور تمہارے واسطے جو چیزیں زمین میں رنگ برنگ کی پھیلائی ہیں اِن میں اُن لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سوچتے ہیں۔
 غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ جو علاقے یا جو ممالک سورج کی کرنوں سے  دور ہوجاتے ہیں یا اوجھل ہوجاتے ہیں ان کو رات کی تاریکیاں گیر لیتی ہیں۔ برعکس اس کے جو خطے سورج کی شعاوں کے روبرو ہوجاتے ہیں وہ روشن ہوجاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جو لوگ قرآن مقدس اور سنت نِبّی ﷺ اور علماء  سے دور چلے جاتے ہیں وہ غفلتوں اور وعیدوں کی تاریکیوں میں چلے جاتے ہیں۔ اور جو لوگ قرآنِ مقدس اور سُنتِ نَبّیﷺ  اور علماء سے اپنا تعلق بنا لیتے ہیں وہ اللّٰہ پاک کی رحمانی تجلیات سے منور ہوجاتے ہیں۔ 
اتنا ہی نہیں فطرتاً موسم بدلتا رہتا ہے اور کبھی سورج کو بادل ڈھانپ لیتے ہیں اور دن میں بھی اندھیرا پڑ جاتا ہے ۔ لیکن سورج کشمکش کو چھوڑے بنا اپنا ظہور پا لیتا ہے۔ یہ بادل دراصل اللّٰہ کی نشانیاں ہے کہ روشنی یعنی حق کے راستے میں رکاوٹیں بھی آسکتی ہیں لیکن ان سے خوفزدہ ہوکر سورج اپنی منزل نہیں چھوڑتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح اللّٰہ کے پیاروں کو جوکہ اللّٰہ کے دیں کے چراغ ہوتے ہیں کو مختلف مصائب و مشکلات گیر سکتے ہیں لیکن وہ اللّٰہ پہ بھروسہ کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں اور ہرگز حالات سے خوفزدہ ہوکر دستبردار نہیں ہوتے ہیں۔اور پھر اس پہ غور کرو کہ جب یہ بادل چھا جاتے ہیں اور آندھیاں چلتی ہے تو آسمان سے فوراً بارش کی بوندیں اترنے لگتی ہیں اور پھر آسمان صاف ہوجاتا ہے اور سورج اپنی شان و جلال کے ساتھ چمک اٹھتا ہے۔ دراصل یہ اس بات کی دلیل دیتا ہے کہ یہ بوندیں وہ آنسوں ہے جو مومن مشکلات آن پڑنے پہ  اپنے مالک و معبود کی خدمت میں عجز و انکساری کے ساتھ بہاتا ہے اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہے اور پھر جیسے بارش کے بعد  آسمان صاف ہوجاتا ہے اسی طرح اللّٰہ کی رحمت سے  وہ گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے اور  بخشا جاتا ہے اور راہ حق پہ پھر سے گامزن ہوجاتا ہے۔
اللّٰہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہماری خطاوں کو معاف فرمائیں۔ ہمیں صیح معنوں میں مومن بنادے۔ ہمیں حقیقی عالم، عامل اور مخلص بنائے۔ اللّٰہ پاک ہم سے راضی ہو اور ہمارا حامی و ناصر ہو۔


 تحریر: شوکت بڈھ نمبل کشمیری