نہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدّعا تیری زندگی کا

نہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدّعا تیری زندگی کا

نہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدّعا تیری زندگی کا
تو اک نفَس میں جہاں سے مِٹنا تجھے مثالِ شرار ہو گا
تشریح:
اگر تیری زندگی کا مقصد نمود و نمائش کے سوا کچھ نہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ تو بھی چنگاری کی طرح ایک آن میں مٹ جاۓ گا۔ یعنی اگر تیری زندگی کا مقصد صرف زندہ رہنا ہے تو جان لے کہ تیری ہستی بے حقیقیت ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی دین و دنیا کے بلند مقاصد کے حصول کی نذر کرے۔ یہی اصل اور پائدار زندگی ہے۔


(شرح غلام رسول مہر)

اے مسلمان اگر تو نے اپنی زندگی کا مقصد صرف یہ سمجھ لیا ہے کہ کچھ عرصہ دنیا میں زندہ رہے اور پھر مر جائے (اسی کو نمود کہتے ہیں) تو یقین رکھ کہ تو ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا. جو شئے انسان کو حیاتِ ابدی عطا کر سکتی ہے وہ عشقِ رسول ہے. محض نمود یعنی حیات چند روزه یہ تو حیوانات کی زندگی کا مقصد ہے. انسان تو اشرف المخلوقات ہے اور پھر مسلمان تو خلیفتہ اللہ ہے.


(شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

Nahin Hai Ghair Az Namood Kuch Bhi Jo Maddaa Teri Zindagi Ka
Tu Ek Nafas Mein Jahan Se Mitna Tujhe Misl-e-Sharaar Ho Ga

If there is nothing but show in the aim of your life
Your destruction from the world will be in a breath like spark